بلوچستان کے 12 اضلاع میں خشک سالی کی شدت بڑھنے کا خدشہ؛ بارشوں میں 79 فیصد کمی، محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان کے 12 اضلاع میں خشک سالی کی شدت میں اضافے کا سنگین خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس پر پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) نے صوبائی حکومت کو پیشگی انتباہ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے صوبے کے ان اضلاع کو خشک سالی کی نگرانی میں رکھتے ہوئے فوری حفاظتی اقدامات کی تجویز دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بلوچستان کے جنوبی اور جنوب مغربی اضلاع، جو زیادہ تر سردیوں کی بارشوں پر انحصار کرتے ہیں، وہاں مئی سے اکتوبر 2025 کے دوران معمول سے 79 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ مسلسل خشک دنوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پی ایم ڈی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بارش کی یہ شدید کمی خشک سالی کے خدشات کو بڑھا رہی ہے۔ مزید پیش گوئی کی گئی ہے کہ نومبر 2025 سے جنوری 2026 کے دوران بھی معمول سے کم بارش اور درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
ان حالات کے باعث مغربی و جنوب مغربی بلوچستان کے اضلاع جن میں چاغی، گوادر، کیچ، خاران، مستونگ، نوشکی، پشین، پنجگور، قلعہ عبداللہ، کوئٹہ اور واشک شامل ہیں، شدید خشک سالی کی زد میں آ سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خشک سالی کے نتیجے میں ربیع فصلوں کے لیے آبپاشی کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے اور اس سے زرعی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پی ایم ڈی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زراعت، مویشی بانی اور روزگار پر مرتب ہونے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری احتیاطی اقدامات کریں اور ضلعی سطح پر ابتدائی انتباہی نظام فعال بنائیں تاکہ صورتحال پر موثر نگرانی اور عوامی آگاہی یقینی بنائی جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert