باپ دوسری شادی کرکے الگ ہوگیا! معصوم بچی سڑک پر سامان بیچنے پر مجبور، ویڈیو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین اشکبار

لاہور (قدرت روزنامہ)سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک نو سالہ بچی کی ویڈیو نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، یہ معصوم بچی صبح اسکول جاتی ہے اور رات کو اپنی والدہ کے ساتھ سڑکوں پر بیٹھ کر سامان فروخت کرتی ہے تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔
ویڈیو میں بچی نے بتایا کہ اس کے والد نے دوسری شادی کر لی ہے اور پہلی بیوی یعنی اس کی والدہ اور بچوں کو چھوڑ دیا ہے۔ اس کے بعد سے وہ نہ ان سے ملنے آتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی مالی مدد کرتے ہیں۔
بچی نے بتایا کہ جب گھر میں راشن ختم ہو جاتا ہے تو وہ اور اس کی والدہ رات کے وقت سڑک کنارے چھوٹا موٹا سامان بیچنے نکلتی ہیں تاکہ کچھ پیسے کما سکیں۔
بچی کے مطابق جو سامان وہ بیچتی ہیں، وہ بھی ان کا اپنا نہیں ہوتا بلکہ کمیشن پر دیا جاتا ہے۔ اس طرح دن بھر اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد رات کو سڑکوں پر بیٹھ کر محنت کرنا ان دونوں ماں بیٹی کی زندگی کا معمول بن چکا ہے۔
ایک 9 سال کی چھوٹی سے بچی جس کے والد نے دوسری شادی کر کے ان سے الگ ہو گئے اور پہلی بیوی اور بچوں کو چھوڑ دیا اور اب ان کے پاس نہیں آتے یہ صبح سکول جاتی ہے اور رات کو روڈ پر سامان بیچتی ہے اس کا کہنا تھا کہ جب راشن ختم ہوتا ہے تو میں اور میری امی دونوں سامان بیچتے ہیں اور وہ سامان… pic.twitter.com/vUBAF4beDd
— صحرانورد (@Aadiiroy2) November 3, 2025
یہ ویڈیو دیکھنے والوں نے بچی کے عزم، حوصلے اور حالات کے خلاف جدوجہد کو سراہا مگر ساتھ ہی معاشرتی اور حکومتی نظام پر سوالات اٹھائے کہ آخر کیوں ایک کمسن بچی کو تعلیم اور بچپن کے بجائے مزدوری پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے؟
سوشل میڈیا صارفین نے حکومتِ اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ اس بچی اور اس کی والدہ کی فوری مدد کی جائے، انہیں مالی تحفظ، تعلیم اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
یہ واقعہ نہ صرف غربت کی سنگینی بلکہ خاندانی نظام کے بکھرتے ہوئے ڈھانچے اور سماجی بے حسی کا بھی عکاس ہے۔ ایسے درجنوں بچے ملک کے مختلف شہروں میں روز انہی حالات میں جیتے اور محنت کرتے ہیں، مگر ان کی آواز اکثر شورِ شہر میں دب جاتی ہے۔
