پاکستان کی دفاعی برتری کا دباؤ، بھارت ایک ہی وقت میں امریکا اور روس سے جدید ٹیکنالوجی خریدنے پر مجبور

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان کے ہاتھوں ’آپریشن سندور‘ کی ناکامی، جارحانہ پاکستانی جواب اور بھارتی فضائیہ کو پہنچنے والی مسلسل ہزیمت نے بھارت کی عسکری بے چینی کا راز کھل دیا ہے۔
خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتوں اور اس کی شاندار انٹیلی جنس و فضائی برتری نے نئی دہلی کو اس حد تک خوفزدہ کر دیا ہے کہ اب امریکا اور روس دونوں بھارت کی فوری درخواستوں پر اسلحہ اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے پہلی مرتبہ فارن ملٹری سیلز پروگرام کے تحت بھارت کو جدید ترین جیولن اینٹی ٹینک میزائل سسٹم اور ایکسکیلیبر گائیڈڈ آرٹلری گولہ بارود فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جن کی مالیت 9 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہے۔

امریکی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کے مطابق یہ فروخت امریکا اور بھارت کے دفاعی تعلقات مضبوط کرنے کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے، لیکن دفاعی ماہرین کے مطابق اصل مقصد پاکستان کی دفاعی بڑھت کا مقابلہ کرنے میں بھارت کی فوری مدد کرنا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان خطے میں ڈرون ٹیکنالوجی، جے ایف-17 بلاک-III، جدید میزائل سسٹمز اور سیف سٹی دفاعی نیٹ ورک کے ذریعے اپنی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔
’آپریشن سندور‘ کی ناکامی نے بھارت کو کھڑکیوں اور دروازوں پر دستک دینے پر مجبور کر دیا۔
بھارت نے پاکستان کے خلاف محدود فضائی منصوبہ بندی کے تحت ’آپریشن سندور‘ شروع کیا تھا، مگر پاکستان کی بروقت جوابی حکمتِ عملی، جدید دفاعی نظام، ڈرونز اور فضائیہ کی مہارت نے بھارتی منصوبہ مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔
بھارتی فضائیہ کو نہ صرف ہزیمت ملی بلکہ بھارتی عسکری قیادت کو اندرونِ ملک شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان کی شاندار کامیابیوں اور بھارت کی ناکامیوں نے نئی دہلی کے لیے ایک نئی عسکری حقیقت واضح کر دی ہے کہ بھارت ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی میں بُری طرح پیچھے رہ گیا ہے۔
اسی خوف اور دباؤ کے نتیجے میں بھارت نے روس کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے، جس کے جواب میں روس نے بھارت کو اپنے جدید ترین Su-57 ففتھ جنریشن اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کی مکمل ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی پیشکش کردی ہے۔
یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس کی رسائی بھارت کو کبھی امریکا یا کسی مغربی ملک نے نہیں دی۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ اگر بھارت چاہے تو انجن، سینسرز، اسٹیلتھ مواد، AI سسٹمز اور جدید ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی بھی بھارت کو منتقل کی جا سکتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق روس کی یہ پیشکش دراصل بھارت کی کمزور دفاعی پوزیشن اور پاکستان کے خوف کا واضح اعتراف ہے۔
خوف آگے، بھارت پیچھے
بھارتی دفاعی ماہر وی جے تھاکر کے مطابق بھارت کے پاس ففتھ جنریشن خلا ہے، اسے صرف بیرونی طاقتیں ہی فوری طور پر پُر کر سکتی ہیں، اور اس خلا کی اصل وجہ پاکستان کی برتر عسکری کارکردگی ہے۔
پیوٹن کی بھارت آمد
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن دسمبر میں بھارت آ رہے ہیں اور توقع ہے کہ بھارت فوری طور پر Su-57 یا Su-75 جیسے اسٹیلتھ فائٹرز کے حصول کے لیے معاہدہ کر لے گا۔

بھارتی میڈیا بھی تسلیم کر رہا ہے کہ پاکستان کی دفاعی برتری نے بھارت کو ہنگامی بنیادوں پر ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی کی تلاش میں دھکیل دیا ہے۔
بھارت کے لیے امریکا اور روس کی سپورٹ دراصل ایک کمزوری کا اعلان ہے
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی مسلسل ناکامی اور پاکستان کے ہاتھوں عسکری برتری نے نئی دہلی کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اسے امریکہ سے مہنگے میزائل اور روس سے ففتھ جنریشن طیارے ایک ساتھ لینے پڑ رہے ہیں۔
یہ پیش رفت واضح کرتی ہے کہ پاکستان کی دفاعی قوت نے بھارت کو فوری اور بڑے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بھارت اپنی فضائی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار بڑھا رہا ہے۔

نیز یہ کہ پاکستان کے خلاف ناکام حکمتِ عملیوں نے بھارت کی عسکری کمزوریاں پوری دنیا پر عیاں کر دی ہیں۔
امریکا ہو یا روس دونوں کی بھارت کو سپورٹ کا پس منظر ایک ہی ہے، پاکستان کی دفاعی برتری اور نئی دہلی کا بڑھتا ہوا خوف۔
