الیکشن سے چند روز قبل التواء عوامی مینڈیٹ پر حملہ ہے، فرار ہونے والوں کو تاریخ معاف نہیں کرے گی: رحمت صالح بلوچ
الیکشن کرانے کی سکت نہیں تھی تو پہلے بتاتے، ہم عدالت سے رجوع کرکے کوئٹہ کے عوام کا حق لیں گے: نیشنل پارٹی

پنجگور ( ڈیلی قدرت کوئٹہ)نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے بلدیاتی انتخابات کے ملتوی ہونے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے صرف چند روز قبل پولنگ مخر کرنے کا اعلان غیر جمہوری، مشکوک اور عوامی مینڈیٹ پر حملہ ہے، جو عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ اگر انتخابات کرانے کی سکت نہیں تھی تو ابتدا ہی میں واضح فیصلہ کیا جانا چاہیے تھا تاکہ امیدواروں، سیاسی جماعتوں اور ووٹرز کو شفاف پیغام ملتا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد، جب امیدواران نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کر دیے اور انتخابی مہم چلائی، مالی و سیاسی وسائل صرف کیے اور الیکشن کمیشن نے بھی تیاریاں مکمل کیں، تو محض چند دن قبل الیکشن ملتوی کرنا بدنیتی کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے التوا کے اسباب کمزور اور ناقابل قبول ہیں، جبکہ بعض جماعتیں عوامی سطح پر مخالفت کا ڈرامہ کرتی رہیں اور عدالتوں میں درخواستیں دائر کر کے الیکشن رکوانے کی کوشش کی۔ بعض وکلا خود عدالتوں میں الیکشن کے خلاف پیش ہوئے، جو ان کے دوہرے معیار اور سیاسی مفادات کو بے نقاب کرتا ہے۔ڈپٹی پارلیمانی لیڈر نے کوئٹہ شہر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر گزشتہ کئی سالوں سے بلدیاتی نمائندگی سے محروم ہے اور بنیادی سہولیات، صفائی، پینے کے پانی، سیوریج، صحت، تعلیم اور شہری ترقی جیسے مسائل کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی مقامی حکومتوں کو جمہوریت کی نرسری سمجھتی ہے اور ہمیشہ بااختیار بلدیاتی اداروں کے قیام کی حامی رہی ہے۔ اسی وجہ سے پارٹی نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے عدالت سے رجوع کیا اور ہر پلیٹ فارم پر کوئٹہ کے عوام کے حقِ نمائندگی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔میر رحمت صالح بلوچ نے زور دے کر کہا کہ عوامی فیصلے سے فرار اختیار کرنے والے عناصر کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی، اور نیشنل پارٹی کسی صورت کوئٹہ کے عوام کو بلدیاتی نمائندگی سے محروم نہیں ہونے دے گی۔
