شمالی بلوچستان میں شدید برفباری سے کئی علاقوں کا رابطہ منقطع، کوئٹہ میں ژالہ باری : زیارت اور سنجاوی میں راستے بند، سینکڑوں لوگ پھنس گئے


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ )صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور شمالی اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش اور ژالہ باری جاری ہے، جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شمالی بلوچستان کے پاک افغان بارڈر ایریاز بشمول توبہ کاکڑی، برشور، لوئے بند، بادینی، توبہ اچکزئی، کرتو، دوبندی کراس، مسلم باغ، کنجوغی، زیارت، سنجاوی، خرواری، بابا ہرنائی روڈ، خانوزئی، سپیرہ، راغہ، جینجن اور لورالائی روڈ پر شدید برفباری اور بارش کے باعث سڑکیں بند ہیں اور علاقے کے باہمی رابطے منقطع ہیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ مقامی آبادی میں پھنسے ہوئے ہیں۔اوتھل اور گردونواح میں گزشتہ شب موسمِ سرما کی پہلی بارش ہوئی، جو وقفے وقفے سے جاری رہی۔ شہریوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بارش سے نزلہ، زکام اور کھانسی جیسی بیماریوں میں کمی متوقع ہے۔ بارش اور گرج چمک کے ساتھ سردی کی شدت میں اضافہ کے باعث شہریوں نے گرم کپڑے، چادریں اور کمبل نکال لیے، جبکہ لنڈا بازار میں گرم ملبوسات کی مانگ بڑھنے سے کاروبار میں بہتری آئی۔ سرد موسم کے باعث چائے خانوں، پکوڑوں اور سموسوں کی دکانوں پر بھی رش بڑھ گیا۔سنجاوی اور اطراف کے پہاڑی علاقوں وادی چوتیر، بٹے تیر اور شیر میں ہلکی تا درمیانی برفباری جاری ہے، جبکہ نشپہ، شیرین، پوئی شریف، خونہزئی اور وچ وانی جیسے پہاڑی علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے برفباری ہو رہی ہے۔ میدان علاقوں میں بارش کے باعث موسم مزید سرد ہو گیا ہے۔ سنجاوی اور زیارت شاہراہ پر شدید پھسلن کے باعث ضلعی انتظامیہ نے سڑکیں عارضی طور پر بند کر دی ہیں اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔قلعہ عبداللہ سمیت دیگر اضلاع میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث خشک سالی سے متاثرہ زمینوں اور باغات میں نمی بحال ہوئی ہے۔ مقامی کسانوں نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں سیب اور انگور کے باغات شدید نقصان کا شکار تھے اور پیداوار متاثر ہوئی تھی، تاہم حالیہ بارشوں نے باغات میں نئی جان ڈال دی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر بارشیں اسی طرح جاری رہیں تو سیب اور انگور کی پیداوار بہتر ہوگی، جس سے مقامی معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔پشین شہر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں بشمول توبہ کاکڑی اور رود ملازئی میں بھی بارش اور برفباری جاری ہے، جس کے باعث پہاڑی علاقوں نے سفید چادر اوڑھ لی ہے اور سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ شہریوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بارشیں نہ صرف موسم کو خوشگوار بنائیں گی بلکہ زرعی پیداوار اور مقامی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ہوں گی۔ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا کے لیے ہر وقت تیار ہے اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بارشیں خاص طور پر گندم، سیب اور انگور کے باغات کے لیے مفید ثابت ہوں گی اور مقامی کسانوں نے اس پر اللہ کی رحمت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ بارشیں بلوچستان میں زرعی خوشحالی کا باعث بنیں گی۔

WhatsApp
Get Alert