کوئٹہ میں تجارتی مراکز پر کسٹم اور فورسز کی یلغار، تاجروں کا معاشی قتل عام بند کیا جائے، پشتونخوا میپ اور انجمن تاجران


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) کوئٹہ میں کسٹم اور فورسز کی جانب سے گوداموں، تجارتی مراکز، مارکیٹوں پر چھاپوں سے متاثرہ تاجروں، دکانداروں اور کاروباری طبقے کا اہم اجلاس ہزار گنجی میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تاجروں نے کسٹم، ایف سی، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے یکے بعد دیگرے کوئٹہ کے اہم تجارتی مراکز پر چھاپوں، تجارتی مال کی لوٹ کھسوٹ کے حوالے سے درپیش صورتحال پیش کی۔ اس موقع پر اجلاس سے انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ، پشتونخوامیپ کے صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان، صورت خان کاکڑ، حضرت علی اچکزئی،سید عبدالخالق آغا، نجیب کاکڑ، حاجی یاسین مینگل، سید محمد جان آغا، حاجی دین محمد آکا، حاجی حضرت خان اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ طویل عرصے سے کوئٹہ کے تجارتی طبقے اور عوام کے ذریعہ معاش پر حکومتی اداروں کی جانب سے حملے جاری ہے۔ ہمارے عوام کا واحد ذریعہ معاش ڈیورنڈ خط پر تجارتی سرگرمیوں اور کاروبار کو ایک منظم منصوبے کے تحت ختم کیا گیا جس سے لاکھوں عوام معاشی مسائل سے دوچار ہوئے۔ اب عوام کی رہی سہی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے آئے روز ہزار گنجی، نیو اڈا سیٹلائٹ ٹاؤن، سریاب روڈ اور دیگر علاقوں میں تجارتی گوداموں، شورومز، مارکیٹوں، کاروباری مراکز پر رات کی تاریکی میں سینکڑوں مسلح فورسز کے ذریعے غیر قانونی چھاپے مسلط کیئے جارہے ہیں اور عوام کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ کسٹم اور دیگر فورسز کو کوئی قانونی حق حاصل نہیں کہ وہ شہر کے اندر گوداموں، مارکیٹوں میں چھاپے مارے اور تجارتی مال ضبط کرے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بڑے بڑے شورومز پر چھاپے مارکر قیمتی گاڑیوں کو ضبط کرکے آفیسران بالا اپنی استعمال میں لاکر عوامی وسائل کو لوٹ رہے ہیں جس سے تاجر برادری میں شدید احساس عدم تحفظ پیدا ہوچکا ہے۔ پشتونخوامیپ اور مرکزی انجمن تاجران تاجروں اور عوام کے مسائل کے حل اور موجودہ صورتحال سے نجات دلانے کے لیے ہر ممکن احتجاج کے لیے راہ ہموار کریگی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات نیو اڈاسیٹلائٹ ٹاؤن میں رات اڑھائی بجے زبردستی ریاستی فورسز کے ذریعے دکانوں کے تالے توڑے گئے اور آدھی رات کو تاجروں اور عوام نے صبح تک شدید احتجاج کیا اور اپنے کاروباری مراکزپر پہرہ دیتے رہے۔ اس موقع پر تمام مقررین اور تاجر برادری نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کوئٹہ کے تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ طور پر ٹھوس اقدامات اٹھائے جائینگے۔

WhatsApp
Get Alert