پشاور میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کا افتتاح، مظلوم پشتونوں کی نجات کیلئے مشترکہ قومی محاذ تشکیل دینے کی اپیل
عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے علی وزیر کی رہائی کی بات بھی کریں، مختار خان یوسفزئی

پشاور (ڈیلی قدرت کوئٹہ) (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیراہتمام پشاور میں پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کے افتتاح کے موقع پر کارکنوں کے ایک پروقار، منظم اور بھرپور اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب کی صدارت پارٹی کے شریک چیئرمین محترم مختار خان یوسفزئی نے کی۔ تقریب سے پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین اور سابق سینیٹر رضا محمد رضا، ڈپٹی چیئرمین حمید خان آف ملاکنڈ، صوبائی صدر (سابق ایم پی اے جنوبی پشتونخوا) نصراللہ خان زیرے، خیبر پشتونخوا کے صوبائی صدر اشرف خان ہوتی، صوبائی نائب صدر بہادر شیر افغان اور پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صوبائی آرگنائزر غیرت خان یوسفزئی نے خطاب کیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن علی حیدر خان نے حاصل کی۔ اجتماع میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری محتم خورشید کاکا جی، مرکزی سینیر سیکریٹری سید عبدالقادر آغا ایڈوکیٹ جنوبی پشتونخوا کے صوبائی نائب صدر عبدالقیوم ایڈووکیٹ، صوبائی سیکریٹری فقیر خوشحال کاسی، صوبائی ڈپٹی سیکریٹری پروفیسر اسد خان ترین ،پشتون خوا ایس او جنوبی پشتونخوا کے صوبای سیکریٹری اطلاعات وحدت خان افغان ،اسلام آباد پنڈی کے سیکریٹری قادر خان شیر خان پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن فصیح اللہ خان وزیر ،نعمت خان مندوخیل ،محبت لالہ سمیت خیبر پشتونخوا سے پارٹی کے مرکزی اور صوبائی ایگزیکٹو اراکین، صوبے کے تمام اضلاع اور علاقوں کے نمائندوں اور پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شریک چیئرمین محترم مختار خان یوسفزئی نے پارٹی اور پی ایس او کے نمائندوں کو پشتونخوا وطن کے تاریخی مرکز پشاور میں پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کے قیام پر دلی مبارکباد اور تحسین پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کا اجتماع محض ایک تقریب نہیں بلکہ پارٹی کارکنوں کا ایک قومی اور ملی اجتماع ہے، اور پارٹی کو پورا یقین ہے کہ پشاور میں قائم ہونے والا یہ صوبائی سیکریٹریٹ پشتون افغان قومی تحریک اور پشتون عوام کے لیے ایک مضبوط ملی مرکز ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہمارے غیور عوام کی امیدوں اور امنگوں کا مرکز ہے اور قومی سیاست سے متعلق اہم اور تاریخی فیصلے ہمیشہ پارٹی کے باقاعدہ دفاتر میں ہوتے ہیں، تاہم یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ آج سیاسی مراکز افراد کے ذاتی حجروں میں منتقل ہو چکے ہیں، جس سے اجتماعی سیاسی عمل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ شریک چیئرمین نے کہا کہ موجودہ حالات میں پشتون افغان قوم کو اپنی تاریخ کے نہایت تباہ کن اور کٹھن دور کا سامنا ہے۔ اس اذیت ناک صورتحال میں اگرچہ عوام کا قومی سیاسی شعور بیدار ہو چکا ہے، لیکن بدقسمتی سے قومی سیاسی قیادت غفلت کا شکار ہو کر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایسے حالات میں وطن کے تمام سیاسی کارکنوں پر یہ قومی، ملی اور دینی فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ قومی نجات کی جدوجہد کے لیے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی جیسے قومی لشکر میں متحد اور منظم ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی محض ایک انتخابی یا پارلیمانی جماعت نہیں بلکہ پشتونخوا وطن اور پشتون افغان ملت کی قومی نجات کی ایک ہمہ گیر سیاسی قوت ہے، جو جدوجہد کی ہر جائز اور جمہوری شکل پر یقین رکھتی ہے۔ پارٹی نے محکوم پشتونخوا وطن کی ملی وحدت، قومی خودمختاری اور قومی اقتدار کے حصول کو اپنا نصب العین قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی نے پشتونخوا وطن کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی اور وطنی مسائل کے حل اور اپنے عوام کو محکومی اور غلامی کی اس اذیت ناک صورتحال سے نجات دلانے کے لیے ایک مشترکہ قومی محاذ تشکیل دیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پشتونخوا وطن کے کروڑوں عوام کو ان کے تاریخی علاقوں سے جبری طور پر بے دخل کیا گیا، دہشت گردی کی جنگ مسلط کر کے انہیں آئی ڈی پیز بننے پر مجبور کیا گیا، ان کے گھروں اور تجارتی مراکز کو مسمار کیا گیا اور ان کے بیش بہا قدرتی وسائل اور معدنیات کی بے دریغ لوٹ مار جاری رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک بار پھر خیبر کے علاقے تیراہ کے غیور پشتون عوام کو ان کے آبائی اور تاریخی وطن سے بے دخل کر کے دربدر کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان استعماری اقدامات کا اصل مقصد پشتونخوا وطن کے پہاڑوں میں موجود قیمتی معدنی ذخائر پر قبضہ قائم کرنا ہے۔ شریک چیئرمین نے کہا کہ قومی سیاسی جماعتوں کا اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ ایک مضبوط قومی سیاسی محاذ قائم کر کے اپنے وطن کے قدرتی وسائل کا دفاع کریں اور ملک میں ایک ایسا حقیقی جمہوری نظام قائم کریں جس میں قومی اسمبلی، مسلح افواج اور وفاقی اداروں میں تمام قوموں کو برابری اور انصاف کی بنیاد پر حق حاصل ہو۔ انہوں نے اپنے خطاب میں افغانستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت کے چار سالہ جبری اقتدار کے باوجود افغانستان کے مسائل حل نہیں ہو سکے بلکہ ملک کی تباہی اور بربادی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے طالبان قیادت پر بارہا واضح کیا ہے کہ افغانستان کے بحران کا واحد حل یہ ہے کہ لویہ جرگہ کے ذریعے تمام افغان اقوام کی نمائندہ حکومت قائم کی جائے، افغان آئین اور تمام قومی اداروں کو بحال کیا جائے اور تمام بنیادی انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کی تعلیم اور آزادی، کی مکمل ضمانت فراہم کی جائے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ جو حلقے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں اصولی اور جمہوری موقف اختیار کرتے ہوئے علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ بھی کرنا چاہیے، کیونکہ انصاف سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
