جنید صفدر کے ولیمے میں ون ڈش کا قانون لاگو ہوا یا نہیں؟ مختلف دعوے سامنے آگئے


لاہور (قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے صاحبزادے جنید صفدر کے ولیمے کی تقریب میں ون ڈش پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث بحث و مباحثہ جاری ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختلف ویڈیوز میں بعض صارفین کا دعویٰ ہے کہ ولیمے میں ون ڈش پالیسی پر مکمل طور پر عمل کیا گیا، جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ تقریب میں ایک سے زائد اقسام کے کھانے پیش کیے گئے، جو پنجاب حکومت کے اپنے فیصلے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جنید صفدر اور شانزے علی روحیل کے ولیمے میں مہمانوں کی تواضع پلاؤ، مٹن قورمہ، گلاب جامن اور گاجر کے حلوے سے کی گئی۔


دوسری جانب ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں میزوں پر مختلف اقسام کے کھانے رکھے دکھائی دیتے ہیں۔ اس ویڈیو پر صارفین کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ون ڈش پالیسی کا اطلاق اس تقریب پر کیوں نہیں ہوا۔


بشارت راجہ کے مطابق مختلف میڈیا ہاؤسز یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ولیمے میں مہمانوں کو سوپ، چکن ٹیمپورا، دیسی مرغ، امرتسری مٹن پلاؤ، مچھلی اور دیسی گھی سے تیار گاجر کا حلوہ پیش کیا گیا۔


ظفر نقوی نے لکھا کہ پورے پنجاب میں ون ڈش کا قانون لاگو ہے کئی لوگوں کا پکا پکایا کھانا پولیس والے اٹھا کے لے گئے لیکن کیا جنید صفدر صاحب کے ولیمے پر اس قانون پر عملدرآمد کیا گیا؟
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ سوال گردش کر رہا ہے لیکن میں اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ کچھ دوست جو ان تقریبات میں موجود تھے ان کے مطابق ون ڈش قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں، کیا ایسا ہی ہے؟ اور اگر ایسا ہی ہے تو کیا قانون کا شکنجہ صرف غریب عوام کے لیے ہے؟


جنید صفدر کی ولیمے کی تقریب جاتی امرا، رائے ونڈ میں منعقد ہوئی جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب میں تقریباً 700 مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا جبکہ دعوت نامہ نواز شریف اور مرحومہ کلثوم نواز کی جانب سے جاری کیا گیا۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے حال ہی میں تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کی تھیں کہ شادیوں اور دیگر تقریبات میں ون ڈش پالیسی پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert