جے یو آئی وفاق کے استحکام اور صوبائی خودمختاری کی محافظ ہے، ریکوڈک پر مقامی حق تسلیم کیا جائے، سینیٹر مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے ضلعی مجلسِ عمومی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر، نظریاتی، فکری اور تاریخی تحریک کا نام ہے، جس کی بنیاد اسلام کی روشن اور آفاقی تعلیمات پر رکھی گئی ہے۔ جمعیت اْن علمائ ِ حق اور دینی کارکنوں کی وارث ہے جنہوں نے برصغیر میں فرنگی استعمار کے خلاف دو صدیوں پر محیط جدوجہد کی قیادت کی اور قربانی، ایثار اور استقامت کی ایسی لازوال مثالیں قائم کیں جو تاریخِ آزادی کا درخشاں باب ہیں۔انہوں نے کہا کہ امام الہند شاہ ولی اللہ دہلوی کے خانوادے سے اٹھنے والی فکری تحریک، شاہ عبدالعزیز دہلوی کی جدوجہد، بالاکوٹ سے 1857ء تک علماء و مجاہدین کی عظیم قربانیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ اس خطے میں اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ سید احمد شہید ، شاہ اسماعیل شہید ، شیخ الہند مولانا محمود حسن ، مولانا عبید اللہ سندھی اور دیگر اکابرین کی سیاسی و فکری جدوجہد نے آزادی کی بنیاد رکھی اور غلامی کے خلاف شعور کو بیدار کیا۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء ہند اور بعد ازاں جمعیت علماء اسلام وہ اولین قوتیں تھیں جنہوں نے برصغیر میں مکمل آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی اور دیگر جلیل القدر علماء کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، حتیٰ کہ پاکستان کا قومی پرچم بھی انہی اکابر علماء کے دستِ مبارک سے لہرایا گیا، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد قراردادِ مقاصد، بائیس دستوری نکات اور1937 کے آئین میں اسلامی دفعات کا شامل ہونا جمعیت علماء اسلام کی طویل، صبر آزما اور اصولی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ مولانا مفتی محمودکی قیادت میں اسلامی اصلاحات، تحریکِ نظامِ مصطفیٰ ،تحریکاتِ ختمِ نبوت، شریعت بل اور پارلیمانی جدوجہد اس امر کا ثبوت ہیں کہ جمعیت نے ہر دور میں اقتدار کے حصول کے بجائے دینِ اسلام کے غلبے، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کو اپنا نصب العین بنایا۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے وفاقِ پاکستان کے استحکام، صوبائی خودمختاری اور محروم اکائیوں کے حقوق کے لیے ہمیشہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات کی مرکز سے صوبوں کو منتقلی، صوبائی خودمختاری کے تحفظ اور جمہوری توازن کے قیام میں جمعیت کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ ترمیم بالخصوص بلوچستان جیسے محروم صوبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی، جس کے ذریعے صوبوں کو اپنے وسائل اور فیصلوں پر آئینی اختیار حاصل ہوا۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بھی جمعیت علماء اسلام نے اصولی مؤقف اپناتے ہوئے صوبوں، خاص طور پر بلوچستان، کے جائز اور آئینی حصے کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی۔ جمعیت اس حقیقت پر یقین رکھتی ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر نہ ترقی ممکن ہے اور نہ ہی قومی یکجہتی کا فروغ۔ این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے حصے کا تحفظ اور اس میں بہتری جمعیت کی مسلسل جدوجہد اور واضح موقف کا عملی نتیجہ ہے۔ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علمائ اسلام قومی وسائل پر مقامی عوام کے حقِ ملکیت، شفاف معاہدات اور صوبائی مفادات کے مکمل تحفظ پر یقین رکھتی ہے۔ جمعیت ہر اْس منصوبے کی حمایت کرتی ہے جو بلوچستان کے عوام کے لیے روزگار، ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بنے، تاہم وہ کسی صورت اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ صوبے کے وسائل چند طاقتور حلقوں کے مفادات کی نذر ہوں اور مقامی آبادی محرومی کا شکار رہے۔ ریکوڈک سمیت تمام بڑے منصوبوں کے بارے میں جمعیت نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ فیصلے آئین، قانون اور صوبائی خودمختاری کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں تاکہ ترقی کے ثمرات حقیقی حقداروں تک پہنچ سکیں۔انہوں نے بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے آج صوبہ شدید سیاسی عدم استحکام، عوامی محرومی اور حکومتی نااہلی کا شکار ہے۔ عوام کے ووٹ کی حرمت پامال کی جا رہی ہے اور حقیقی عوامی نمائندوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بلوچستان کے عوام آج بھی تعلیم، صحت، پانی، روزگار اور امن جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ حکمران طبقہ ذاتی مفادات اور اقتدار کی سیاست میں مصروف ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف آئین کی روح کے منافی ہے بلکہ قومی وحدت کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ ملک کی مجموعی سیاسی فضا میں جمہوریت کمزور، پارلیمان بے اختیار اور آئینی اصول پامال ہو رہے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں جمعیت علماء اسلام وہ واحد سیاسی قوت ہے جو ہر دور میں آمریت، آئین شکنی اور غیر جمہوری طرزِ عمل کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہی ہے۔ جیلیں ہوں، پابندیاں ہوں یا سیاسی نقصان، جمعیت نے ہمیشہ عوام، آئین اور دینِ اسلام کے ساتھ کھڑے ہونے کا عملی ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی جمعیت علماء اسلام اسی تاریخی تسلسل کی امین ہے ہم تصادم، تشدد اور انتشار کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ پْرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے نفاذِ شریعت، آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور عوام کے حقوق کے تحفظ کو اپنا مشن سمجھتے ہیں۔ قوم کو چاہیے کہ وہ اس نظریاتی ورثے کو پہچانے اور اس قافلہ حق کا ساتھ دے جو ہر دور میں جبر، ناانصافی، استحصال اور طاغوتی قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا رہا ہے۔
