8 فروری کو ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، پشتونخواملی عوامی پارٹی نے کوئٹہ میں احتجاج کی بھرپور تیاریوں کا آغاز کر دیا


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے ضلع کمیٹی کا اجلاس پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی کے زیر صدارت پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تنظیمی سیاسی کارکردگی رپورٹس پیش ہوئی اور آئندہ کالائحہ عمل طے کیا گیااور ضلع ایگزیکٹیوز کے اجلاس کے فیصلے پر ضلع کمیٹی کو عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب 8فروری 2026کو ملک بھر بالخصوص صوبے اور کوئٹہ شہر میں پہیہ جام وشٹر ڈاؤن ہڑتال کی کامیابی کے لیے بھرپور تیاری اور حکمت عملی طے کی جائیگی اور اس سلسلے میں فوری طور پر تحصیل صدر، تحصیل سٹی، تحصیل کچلاغ اور تحصیل سریاب سمیت تمام علاقائی یونٹس کے مشترکہ اجلاسوں کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا اور عوام رابطہ مہم کے ذریعے گھر گھر احتجاج کے حوالے سے پمفلٹ تقسیم کرتے ہوئے انہیں ہڑتال کی کامیابی کی اپیل کی جائے گی۔ اجلاس میں پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر وضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیرافغان،مرکزی کمیٹی کے رکن اعظم صاحب، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز صورت خان کاکڑ، ملک عمر کاکڑاور گل خلجی نے شرکت کی۔ اجلاس سے نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مخدوش صورتحال میں حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ 8فروری 2024کے انتخابات میں جس بھونڈے انداز میں دھاندلی کی گئی اس کے نتیجے میں آج ملک سیاسی عدم استحکام اور بدترین بحرانوں سے دوچار ہیں۔ 8فروری 2026کے پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی کامیابی کے لیے تمام ملک اور بالخصوص جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع میں بھرپور تیاری کی جائے اور اتحادی جماعتوں کے ہمراہ اجلاسوں کے انعقاد کو یقینی بناکر عوام سے تک ہڑتال کا پیغام پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی، دہشتگردی، لاقانونیت کی ایک اہم وجہ بیروزگاری اور مہنگائی میں اضافہ جبکہ دوسری وجہ عوام کو اپنے وسائل سے محروم رکھنااور ان کے زمینوں کے انتقالات مختلف محکموں کے نام کرکے ان پر قبضہ کرنا ہے۔ اور ایسے پالیسیوں واقدامات جس سے امیرامیر ترین جب کہ غریب غریب تر بنتا جارہا ہے کو ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 8فروری 2024ملک کی جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن اس لیئے ہے کہ اس دن عوام کے جمہوری رائے دہی پر بندوق کی نوک پر ڈاکہ ڈالا گیا اور عوام کے حقیقی سیاسی جمہوری پارٹیوں اور ان کے نمائندوں کی کامیابی کو شکست میں تبدیل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت پشتون عوام انتہائی مشکل حالات سے زندگی بسرکررہے ہیں، کوئٹہ، پشین، چمن،کراچی، لاہور ودیگر شہروں میں پشتون عوام پر روزگار کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ کسٹم کلیئرنس سیل بنا کر تمام ڈیورنڈ خط پر تجارتی راستوں کو بحال کیا جاتا اور اس طرح عوام کو روزگار کے مواقع حاصل ہوتے لیکن ایک جانب ڈیورنڈ خط پر تمام تجارتی راستوں کو بند کردیا گیا دوسری جانب کوئٹہ، کراچی، لاہور کے بڑے بڑے مارکیٹوں، تجارتی مراکز جہاں پشتون عوام روزگار کررہے ہیں ان پر چھاپے مارے جارہے ہیں،ہمارے عوام کو کرورڑوں، اربوں روپے کے نقصانات سے دوچار کیا جارہا ہے۔ کسٹم کلیئرنس کے بعد کسی بھی محکمہ یا ادارے کو یا قانونی اختیار حاصل نہیں کہ وہ مارکیٹوں،گوداموں پر جاکر چھاپے مارے اور سامان کو ضبط کرکے مال غنیمت کے طرح لوٹنے میں مصروف ہو۔کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ،ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، لورالائی، بارکھان، سبی، زیارت کے تاجر، زمیندار، ٹرانسپورٹررز سمیت ہر شعبہ زندگی کے عوام اذیت سے دوچار ہیں، امن وامان کی ابتر صورتحال اور روزگار پر قدغن کے فیصلے بیروزگاری، بدامنی کو مزید دوام دینے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پشتون قوم کا شمار پر امن اور اپنے وسائل،سرزمین، ثقافت کی دفاع کرنیوالے اقوام میں ہوتا ہے۔ ہزاروں سالہا تاریخ میں کبھی بھی پشتون دہشتگرد نہیں رہی اور اپنے اعلیٰ اصولوں، روایات اور فیصلوں کے تحت حکمرانی کرتی رہی ہے لیکن بدقسمتی سے پشتون سرزمین پر ایک سازش کے تحت طویل جنگ مسلط کی گئی اور آج بھی انہیں امن، ترقی کے لیے نہیں چھوڑا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر دہشتگردی، بدامنی، بیروزگاری مسلط کرکے قدرت کی جانب سے عطاء کیے گئے وسائل پر لوٹ مار جاری رکھا گیا ہے۔ پشتونوں کی سرزمین، پہاڑوں میں قدرت نے بے شمار معدنیات رکھے ہیں اور ان معدنیات پر قبضہ کرنے کے لیے پشتون قوم کو آپس میں دست وگریباں کرنے اور بے اتفاق رکھنے کے لیے سازشیں کی جارہی ہے اپنے ان تمام سازشوں کو روکنے اور آپس میں اتحاد واتفاق کو برقرار رکھتے ہوئے بحیثیت ایک سیال قوم متحد ہونا ہوگا اور اپنے وسائل، سرزمین، حقوق کی جاری جدوجہد میں اپنا مثبت وتعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert