سیاسی اختلاف کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لے جانا ملکی استحکام کے لیے خطرناک ہے، مولانا عبدالواسع

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) امیر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان اور سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ سیاسی اختلاف کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لے جانا درحقیقت ملکی استحکام، جمہوریت اور قومی وحدت کے لیے باعث تشویش ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری نظام کا حسن ہے، تاہم اسے انتقام، تضحیک اور محاذ آرائی کی سیاست میں تبدیل کرنا ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی رہنما، خصوصاً سابق وزیرِاعظم عمران خان کو انسانی بنیادوں پر مکمل طبی سہولیات فراہم کرنا حکومتِ وقت کی اخلاقی، آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر انسانی حقوق اور علاج معالجے کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک مہذب ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے مخالفین کے ساتھ بھی انصاف اور قانون کے مطابق برتاؤ کرے۔
مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مہذب معاشروں کی پہچان یہ ہے کہ وہاں اختلاف کو مکالمے اور آئین کے دائرے میں رکھا جاتا ہے۔ جن قوموں نے سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں بدلا وہ انتشار کا شکار ہوئیں، جبکہ برداشت اور جمہوری اصولوں کو اپنانے والی اقوام ترقی کی راہ پر گامزن ہوئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نفرت انگیزی اور کردار کشی کی سیاست جمہوری اقدار کے منافی ہے اور عالمی سطح پر ملک کی جگ ہنسائی کا باعث بنتی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ نظریاتی اختلاف کو بعض حلقوں کی جانب سے ملکی وحدت پر سوالیہ نشان بنانے کی کوشش کی گئی، جو غیر ذمہ دارانہ طرزعمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے سیاسی میدان کھلا ہونا چاہیے اور فیصلے عوام کے ووٹ کی طاقت سے ہونے چاہئیں، نہ کہ بند کمروں میں۔
سینیٹر عبدالواسع نے کہا کہ سیاست کو مصنوعی تقسیم اور انجینئرڈ فارمولوں سے آزاد کیا جانا چاہیے کیونکہ ماضی میں سیاسی عمل کے ساتھ دانستہ کھیل نے جمہوریت کو کمزور اور اداروں پر عوامی اعتماد کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو درپیش معاشی، سماجی اور سلامتی کے چیلنجز کا حل سیاسی استحکام، آئین کی بالادستی، پارلیمان کی خودمختاری اور قومی مکالمے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ محاذ آرائی نہیں بلکہ مفاہمت، انتقام نہیں بلکہ انصاف اور نفرت نہیں بلکہ رواداری ہی پاکستان کو ایک مضبوط اور مہذب ریاست بنا سکتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ہر اس اقدام کی حمایت کرے گی جو جمہوری استحکام، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور قومی یکجہتی کو فروغ دے۔
