مادری زبانوں کا عالمی دن: پشتونخواملی عوامی پارٹی کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب میں مرکزی تقریب، پشتو کو قومی و سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ


کوئٹہ — Pashtunkhwa Milli Awami Party کے زیر اہتمام 21 فروری مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر پریس کلب کوئٹہ میں مرکزی تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری Abdul Rahim Ziaratwal نے کی۔
تقریب سے عبدالرحیم زیارتوال کے علاوہ پشتو اکیڈمی کے صدر حافظ رحمت اللہ نیازی، ممتاز ادیب درویش درانی، خلیل باور، پروفیسر نصیب اللہ سیماب، نذر خان پانیزئی، شوکت ترین، پارٹی کے مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی اور صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان نے خطاب کیا، جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان نے سرانجام دیے۔ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین، مرکزی کمیٹی کے اراکین، پشتو زبان کے ماہرین، پشتو ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ، پشتو اکیڈمی، پشتونخوا لائرز فورم اور پشتونخوا ڈاکٹر فورم کے اراکین نے شرکت کی۔
مقررین نے اپنے خطابات میں 21 فروری کو عالمی سطح پر مادری زبانوں کے دن کے طور پر تسلیم کیے جانے پر بنگلہ دیش کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی قربانیوں کے باعث UNESCO نے اس دن کو عالمی حیثیت دی۔ انہوں نے کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصد پشتو سمیت تمام مادری زبانوں کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنا اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ مادری زبان کسی بھی قوم کی فطری وحدت، قومی و ملی تشخص کی علامت ہوتی ہے اور اپنی زبان کی خدمت ہر فرد کا قومی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے مادری زبانوں کو سرکاری، عدالتی، تعلیمی اور دفتری زبان کا درجہ دینے کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی ہے۔ اس سلسلے میں خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے پشتو زبان کے فروغ کے لیے انتھک جدوجہد کی اور پشتو اکیڈمی کی بنیاد رکھی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی ہر قوم کے مذہب، زبان اور ثقافت کا احترام کرتی ہے اور ملک میں موجود تمام اقوام کو برابری کے حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ 23 مارچ 1940 کی قرارداد میں جن اصولوں اور حقوق کا وعدہ کیا گیا تھا، ان پر آج تک مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
مقررین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اسمبلی سے منظور ہونے والے اس قانون پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا جس کے تحت پشتو، بلوچی، براہوئی، سرائیکی، سندھی، فارسی اور پنجابی زبانوں کو پرائمری سطح تک نصاب میں شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس قانون پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مادری زبان میں تعلیم طلبہ کی فہم، تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی شعور کو فروغ دیتی ہے، جبکہ اپنی زبان اور ثقافت سے محرومی قوموں میں احساسِ محرومی کو جنم دیتی ہے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک کی تمام قومی زبانوں کو آئینی و عملی طور پر قومی زبان کا درجہ دیا جائے اور ان کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

WhatsApp
Get Alert