بلوچستان حکومت کا تاریخی کفایت شعاری پیکج: 800 آسامیاں ختم، ہفتے میں تین چھٹیاں اور شادیوں میں 2 سو مہمانوں سے زائد پر پابندی ون ڈش لازمی قرار


کوئٹہ (ڈیلی قدرت نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کابینہ کے خصوصی اجلاس میں تاریخی کفایت شعاری پیکج کی منظوری دے دی گئی ہے جس میں گورنر بلوچستان، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے خصوصی شرکت کی۔
فیصلے کے مطابق کفایت شعاری مہم کا آغاز چیف منسٹر سیکرٹریٹ سے کرتے ہوئے 800 کے لگ بھگ غیر ضروری آسامیاں تحلیل کر دی گئی ہیں اور سرکاری اخراجات میں کمی سمیت ایندھن کی بچت کے لیے جامع پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں طے پایا کہ صوبائی وزراء، مشیران اور پارلیمانی سیکرٹریز دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد اور گریڈ 20 و اس سے اوپر کے اعلیٰ افسران کی دو دن کی تنخواہ میں رضاکارانہ کٹوتی کی جائے گی، تاہم صحت اور تعلیم کے شعبوں کے ملازمین کو اس کٹوتی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔


اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری میٹنگز اب زیادہ تر ویڈیو لنک کے ذریعے ہوں گی، غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں پر پابندی ہوگی اور سیمینارز و ٹریننگز کے لیے پیشگی اجازت لازمی ہوگی؛ مزید برآں سرکاری دفاتر میں چار روزہ ورک ویک متعارف کرواتے ہوئے 50 فیصد عملے کو گھر سے کام (WFH) کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ نجی شعبے کو بھی اسی پالیسی کی تجویز دی گئی ہے۔
تعلیمی حوالے سے صوبے کے تمام اداروں میں 23 مارچ 2026 تک بہار کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے مگر امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے؛ سماجی سطح پر شادی بیاہ کی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود اور صرف ایک ڈش کی اجازت ہوگی جبکہ ہائی ویز پر گاڑیوں کی رفتار 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں حکومت نے خود مثال قائم کی ہے اور قومی وسائل کے ضیاع کی کوئی گنجائش نہیں، تمام ادارے اس پالیسی پر سختی سے عمل کریں کیونکہ یہ وسائل اب براہِ راست عوامی فلاح پر خرچ ہوں گے۔

WhatsApp
Get Alert