قلعہ عبداللہ واٹر سپلائی اسکیموں میں مبینہ کروڑوں کی خرد برد: بلوچستان ہائی کورٹ کا ایم پی اے زمرک خان اچکزئی کو فریق بنانے کا حکم، نیب انکوائری اور 30 ملین کی ریکوری کی استدعا


(کوئٹہ) بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے قلعہ عبداللہ واٹر سپلائی اسکیموں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ایک آئینی درخواست کی سماعت کی، جس میں ترقیاتی فنڈز کے غیر قانونی استعمال کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ درخواست گزار عنایت اللہ خان اچکزئی نے حلفیہ بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ایم پی اے زمرک خان اچکزئی کے فنڈز سے تین واٹر سپلائی اسکیمیں منظور ہوئیں، جن میں سے ہر اسکیم کی لاگت ایک کروڑ روپے تھی، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود ان پر کوئی عملی کام شروع نہیں ہو سکا؛ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسکیم نمبر 3835 اور 3916 پر کام کے بغیر فنڈز جاری کرنے کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور نیب (NAB) و اینٹی کرپشن کو سات دن کے اندر انکوائری شروع کرنے کا حکم دیا جائے؛ اس کے علاوہ تینوں واٹر سپلائی اسکیموں کے فنڈز کا فرانزک آڈٹ اور منی ٹریل کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ مبینہ طور پر خرد برد ہونے والے 30 ملین روپے ذمہ دار افسران اور ٹھیکیداروں سے ریکور کیے جائیں اور انکوائری مکمل ہونے تک ملوث افسران کو معطل کر کے ان کے اثاثے منجمد کیے جائیں؛ سماعت کے دوران عدالت کے استفسار پر کہ کیا متعلقہ ایم پی اے سے رابطہ کیا گیا، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے متعدد بار حکام اور اینٹی کرپشن سے رجوع کیا مگر کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی؛ عدالت نے معاملے کی نوعیت کے پیش نظر ایم پی اے زمرک خان اچکزئی اور چیئرمین سی ایم آئی ٹی (CMIT) کو فریق بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ دو دن میں پٹیشن کا ترمیم شدہ عنوان جمع کرایا جائے تاکہ فریقین کو نوٹسز جاری کیے جا سکیں؛ کیس کی مزید سماعت 2 اپریل 2026 تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

WhatsApp
Get Alert