مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکا کا ڈھائی ہزار مزید فوجی اہلکار تعینات کرنے کا بڑا فیصلہ

82 ویں ایئربورن ڈویژن کے دستے روانہ، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی مزید مضبوط بنانے کا اعلان

واشنگٹن(قدرت روزنامہ)مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے پیشِ نظر امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی طاقت میں بڑے اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مزید ڈھائی ہزار تازہ دم فوجی اہلکار فوری طور پر مشرقِ وسطیٰ روانہ کیے جا رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ان تازہ دم دستوں کا تعلق امریکہ کے مشہور ’82 ویں ایئربورن ڈویژن’ سے ہے، جو اپنی تیز رفتار کارروائیوں کے لیے عالمی شہرت رکھتا ہے۔ ان فوجی دستوں میں پہلی کومبیٹ بریگیڈ کے تجربہ کار کمانڈرز اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والا ماہر عملہ بھی شامل ہے، جو کسی بھی محاذ پر فوری رسد اور حربی معاونت کو یقینی بنائے گا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس تازہ تعیناتی کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کسی بھی غیر متوقع یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکی فوجی موجودگی کو پہلے سے زیادہ مضبوط، مربوط اور موثر بنانا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ یہ اقدام خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

دوسری جانب دفاعی ماہرین نے اس امریکی اقدام کو خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 82 ویں ایئربورن ڈویژن کی تعیناتی سے خطے میں امریکی دفاعی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا، جس سے کسی بھی ممکنہ چیلنج یا حملے کا فوری اور بھرپور جواب دینے میں مدد ملے گی۔ اس اقدام کو ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert