پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی حملے میں 10 امریکی فوجی زخمی، ابوظبی میں بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے سے پانچ افراد زخمی، حوثی باغی بھی باقاعدہ میدان میں آگئے

ابوظبی/ریاض(قدرت روزنامہ)مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ نے انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں ایران نے سعودی عرب میں واقع ایک اہم فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے جبکہ یمن کے حوثی باغیوں نے بھی پہلی بار براہِ راست اسرائیل پر میزائل داغ کر جنگ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ایران نے سعودی عرب میں امریکی فوج کے زیرِ استعمال ’پرنس سلطان ایئر بیس‘ پر بڑا میزائل حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 امریکی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ حساس عسکری معاملات پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے دو امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ زخمی ہونے والے اہلکاروں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ حملے کے نتیجے میں اڈے پر موجود متعدد ایندھن بھرنے والے طیاروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب، متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں بھی بیلسٹک میزائل حملے کی اطلاع ملی ہے۔ ابوظبی میڈیا آفس کے مطابق، دفاعی نظام کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، تاہم اس کا ملبہ گرنے سے پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ملبہ گرنے کے باعث شہر کے دو مقامات پر شدید آگ بھڑک اٹھی۔ حکام اس وقت ’خلیفہ اکنامک زونز ابوظبی‘ (KIZAD) کے اطراف میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ ابوظبی پورٹس گروپ کے معاشی شہروں اور فری زونز کا ایک اہم حصہ ہے۔
ادھر اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کی صبح یمن کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے ساتھ جاری موجودہ جنگ کے دوران اسرائیل کو یمن کی سرزمین سے حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب اسرائیل کے مرکزی جوہری تحقیقاتی مرکز اور بیئر شبع کے علاقوں میں تین مرتبہ خطرے کے سائرن بجے، کیونکہ ایران اور حزب اللہ نے رات بھر اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش جاری رکھی۔ یمن کے دارالحکومت صنعا پر قابض حوثی باغیوں کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے ایک ریکارڈ شدہ بیان میں ایران کی حمایت میں جنگ میں شامل ہونے کے مختلف طریقوں کا ذکر کیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی اس جنگ میں باقاعدہ شمولیت سے بحیرہ احمر اور عرب جزیرہ نما کے تجارتی راستوں کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو گئے ہیں، جس سے یہ تنازع ایک وسیع تر علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہ پیشرفت اسرائیل کی جانب سے ایران کو دی گئی اس دھمکی کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل اپنے حملوں کو مزید ‘پھیلائے اور بڑھائے’ گا۔
