تبادلوں اور پسندیدہ پوسٹنگ کے لیے سفارشات لانے والے جوڈیشل افسران کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ : چیف جسٹس یا ججز سے براہِ راست یا بالواسطہ رابطہ نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگا: رجسٹرار ہائی کورٹ
جوڈیشل افسران ڈسٹرکٹ جوڈیشری ایکٹ کے تحت صوبے میں کہیں بھی خدمات انجام دینے کے پابند ہیں: سرکلر جاری ذاتی روابط یا ثالثی کے ذریعے رعایت طلب کرنے کی اجازت نہیں، خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) یکم اپریل: بلوچستان ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے ضلعی عدلیہ کے تمام جوڈیشل افسران کو ایک اہم سرکلر جاری کرتے ہوئے واضح ہدایت دی ہے کہ تبادلوں یا پسندیدہ مقامات پر تعیناتی کے لیے معزز ججز یا چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمد کامران خان ملاخیل سے براہِ راست یا بالواسطہ سفارشات حاصل کرنے کی کوشش ہرگز نہ کی جائے۔جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ معزز چیف جسٹس اور معزز ججز کی جانب سے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے کہ بعض جوڈیشل افسران ترجیحی پوسٹنگ یا تبادلوں کے حصول کے لیے خاندان کے افراد، دوستوں یا رشتہ داروں کے ذریعے براہِ راست یا بالواسطہ رابطے کر رہے ہیں۔ عدالت عالیہ کے مطابق ایسا طرزِ عمل سرکاری قواعد و ضوابط اور عدالتی نظم و ضبط کے اصولوں کے منافی ہے اور اسے سنگین بدانتظامی تصور کیا جائے گا۔سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان ڈسٹرکٹ جوڈیشری ایکٹ 2021 کے سیکشن 10 کے تحت سروس میں موجود ہر جوڈیشل آفیسر اس امر کا پابند ہے کہ وہ صوبہ بلوچستان کے اندر یا باہر کسی بھی عدالت، ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ یا قانون کے مطابق کسی بھی منصب پر خدمات انجام دے سکتا ہے، لہٰذا تبادلے یا تعیناتی کے معاملات انتظامی اختیار کے تحت طے کیے جاتے ہیں۔معزز چیف جسٹس کی ہدایت کے مطابق کسی بھی جوڈیشل آفیسر کو ذاتی روابط یا ثالثی کے ذریعے تبادلہ، پوسٹنگ یا کسی قسم کی رعایت طلب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سرکلر میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس ہدایت کی خلاف ورزی کو بدانتظامی سمجھا جائے گا اور متعلقہ قوانین کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔تاہم سرکلر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جوڈیشل افسران اپنے سرکاری اور جائز معاملات کے لیے مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہائی کورٹ کی متعلقہ برانچ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے تمام جوڈیشل افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں دیانتداری، شفافیت اور نظم و ضبط کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھیں۔
