عمران خان کے کیسز میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا

پشاور (قدرت روزنامہ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا۔ میڈیا کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے قبائلی اضلاع کے مرجر کی واپسی سے متعلق صحافی کے سوال پر رد عمل دیتے پوئے کہا کہ قبائلی اصلاحات کے تناظر میں فاٹا انضمام کے بعد مختلف آراء ضرور سامنے آئیں، کچھ حلقے اسے غلط سمجھتے تھے جبکہ دیگر کے نزدیک یہ ایک تاریخی اور مثبت قدم تھا۔
تاہم عمران خان کے اس جراتمندانہ فیصلے نے ایک نئی حقیقت کو جنم دیا، جہاں ایک عام قبائلی نوجوان، جس کا تعلق مڈل کلاس سے ہو اور جس کے لیے کبھی بڑے سیاسی خاندانوں کے مقابلے میں الیکشن جیتنا بھی ناممکن لگتا تھا، آج نہ صرف کامیاب ہو کر اسمبلی تک پہنچا بلکہ بحثیت وزیر اعلیٰ صوبے کی قیادت بھی سنبھال چکا ہے۔
یہ تبدیلی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے قبائلی معاشرے کی سوچ میں ایک نئی امید، خوداعتمادی اور شمولیت کا احساس پیدا کر چکی ہے۔
آج قبائلی نوجوان خود کو قومی دھارے کا حصہ سمجھتے ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں۔ ایسے حالات میں اگر فاٹا انضمام کو واپس لینے یا کسی بھی قسم کی غیر دانشمندانہ مہم جوئی کی کوشش کی گئی تو اس کا شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ یہ ردعمل صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا، جسے سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے۔
عمران خان کی پر امن رہائی تحریک کے لیے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے۔ 9 اپریل کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، مختلف مقامات پر کیمپس تیار ہیں اور رجسٹریشن جاری ہے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں، کوئی رعایت نہیں مانگتے۔ ملک میں ایک جماعت کے ساتھ جاری سیاسی امتیاز ختم ہونا چاہیے کیونکہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، اور اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ اسی کی ضرورت ہے۔ عمران خان کی رہائی انصاف کا تقاضا ہے۔ کیسز میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان صرف پاکستان کو ہوگا۔
