عدالت عالیہ کے خلاف بیان بازی قابل مذمت، فردِ واحد کی انا پرستی نے بلوچستان بار کونسل کا وقار مجروح کیا، امان اللہ کنرانی


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان بار کونسل کے نام کو استعمال کرتے ہوئے فرد واحد اپنی انا کی تسکین کیلئے مخصوص مراعات یافتہ و اشرافیہ کے تحفظ کی خاطر سرگرم گروہ کی جانب سے عدالت عالیہ بلوچستان کے خلاف معاندانہ و مخاصمانہ بیان بازی قابل مذمت و نفرت ہے اس گروہ کے اندر اتنی جْرات نہیں کہ وہ 8 رْکنی بلوچستان بار کونسل کا اجلاس بلاکر باقاعدہ قواعد کی پابندی کرتے ہوئے کاروائی کو مرتب کرکے فیصلے کرسکیں فرد واحد بنی بنائے آوردہ مندرجات کی کاپی پیسٹ کے نقل جوء کو جب اداروں کے اوپر تھوپیں گے اور پرانی تاریخوں میں جھوٹے و فراڈ اندراجات کرکے کاروائی کو بار کونسل سے منسوب کریں گے تو متاثرہ اپوزیشن ممبران بار کونسل کا قانونی و اخلاقی حق ہے کہ وہ اس کو عدالت میں چیلنج کرے مگر جب کسی کے پاس دلیل ختم ہوجائے تو اپنی خفت مٹانے کیلئے گالیوں و بدزبانی پر اْتر آتے ہیں یہی کچھ بار کونسل کے نام پر فرد واحد نے اپنے بیان میں کیا ہے جس کی ہماری بار کی روایت و اخلاقی تقاضوں کے تحت کوء گنجائش نہیں ہے
وکیل قانون کا محافظ و آفیسر آف کورٹ ہوتا ہے اس کو عدالتی کاروائیوں کے خلاف عدالت سے ماوراء راستہ اختیار کرنا زیب نہیں دیتا یہ نہ صرف ڈسپلن و بلکہ وکلاء Ethics&etiquette کے برعکس ہے جس کی ہمیں ہر حال میں پاسداری کرنی ہے ملک میں جنرل ایوب خان کے جبر کے دور میں کام کرنے والے چیف جسٹس کارنیلس و جنرل ضیاء کے دور میں جسٹس دْراپ پٹیل و جسٹس کے ایم اے صمدانی و جنرل پرویز مشرف کے دور میں جسٹس بھگوان داس جیسے منصفوں نے ایمانداری سے اپنا اپنا کام کیا ہے ریاست و حکومت میں فرشتے نہیں انسان ہی اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ براجمان ہوتے ہیں اور ھمارے وکلاء نے اس دور کے مزکورہ جج صاحبان کے برعکس بڑی تعداد میں ججوں کی موجودگی میں بھی عدالتوں کی تہذیب و اخلاقیات کے دائرے میں معاونت کی ہے آج کا دور وکلاء و عوام کیلئے ہم آہنگ ہے یا نہیں اس سے قطع نظر مگر کٹھن حالات میں بھی ہر ایک اپنا قانونی حق استعمال کرتا ہے گالم گلوچ پر نہیں اْترتا

WhatsApp
Get Alert