اگر ٹرمپ آئے تو ایرانی صدر بھی اسلام آباد کا رخ کریں گے، سی این این

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) ایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد منگل کے روز پاکستان پہنچے گا جہاں وہ امریکہ کے ساتھ اہم مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وفد کی تشکیل گزشتہ مذاکراتی دور جیسی ہی ہونے کی توقع ہے، جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شامل تھے۔

سی این این کے مطابق ایرانی حکام کو امید ہے کہ بدھ کے روز جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے ایک علامتی مشترکہ اعلان کیا جائے گا، جو دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ اگر مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھتے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام آباد آنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو ایرانی صدر بھی پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے صدور کی ایک مشترکہ ملاقات متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ ملاقات کے دوران “اسلام آباد ڈیکلریشن” پر دستخط کیے جا سکتے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے معاہدے یا مفاہمت کی علامت ہوگا۔ تاہم اب تک تہران کی جانب سے اس بات کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی کہ ایرانی مذاکراتی وفد واقعی اسلام آباد کا رخ کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ پہلے ہی امریکی وفد بھیجنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے، جس کے بعد سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز کر دی گئی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert