بلوچستان : فیمیل امتحانی مراکز میں ہراسانی کے واقعات، بورڈ انتظامیہ کی پراسرار خاموشی اور متنازعہ اہلکار کو حساس ڈیوٹی سونپنا شفافیت پر کاری ضرب


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے زیرِ نگرانی جاری ایف اے/ایف ایس سی امتحانات کے دوران فیمیل امتحانی مراکز میں سنگین نوعیت کی بے ضابطگیوں اور مبینہ ہراسانی کے واقعات نے تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ذرائع کے مطابق بورڈ آفس سے وابستہ جونیئر کلرک مختلف فیمیل سنٹرز میں انسپکشن کے نام پر جا کر طالبات اور فیمیل اسٹاف کو چیکنگ کے بہانے مبینہ طور پر ہراساں کر رہا ہے۔ متاثرہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس عمل سے امتحانی ماحول شدید متاثر ہو رہا ہے اور طالبات ذہنی دبا کا شکار ہیں۔مزید الزامات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ اہلکار کا ماضی متنازع رہا ہے، تاہم ان دعوں کی تاحال کسی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بورڈ انتظامیہ نہ صرف اس معاملے پر خاموش دکھائی دیتی ہے بلکہ مبینہ طور پر اسی اہلکار کو حساس نوعیت کے فیمیل امتحانی مراکز تک رسائی دی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسے ایک اہم انکوائری کمیٹی کا حصہ بھی بنایا گیا ہے، جسے ناقدین نے کھلے عام مفادات کے ٹکرا اور شفافیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ایک فیمیل ٹیچر (نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر) نے بتایا: اگر یہی صورتحال رہی تو طالبات کا اعتماد بری طرح متاثر ہوگا، ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ایک والد نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہاہم اپنی بچیوں کو تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں، اگر وہاں بھی وہ محفوظ نہیں تو یہ انتہائی تشویشناک ہے۔مطالبات اور انتباہ تعلیمی و سماجی حلقوں نے بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات سے فوری نوٹس لینے، غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور فیمیل سنٹرز میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاملے کو نظر انداز کیا گیا تو والدین، اساتذہ اور سول سوسائٹی احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

WhatsApp
Get Alert