پاکستان میں ایرانی کرنسی کا نیا رجحان، روزانہ کروڑوں کا لین دین، جانئے اس میں کتنا فائدہ ہے؟

کراچی (قدرت روزنامہ)؎قیاس آرائیوں پر مبنی ٹریڈنگ اور سرحد پار سرگرمیوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں ایرانی ریال کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق سرمایہ کار امریکی ایران سفارتی پیش رفت سے منسلک ممکنہ مثبت نتائج پر شرط لگا رہے ہیں۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ECAP) کے اندازوں کے مطابق مقامی مارکیٹوں میں روزانہ 60 لاکھ ڈالر تک کے برابر ایرانی کرنسی کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سفارتی کوششوں سے متعلق خبروں کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جن میں بعض کے مطابق پاکستان کا کردار بھی ممکنہ ثالث کے طور پر زیر بحث ہے۔

مارکیٹ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی ریال کی قیمت غیر رسمی مارکیٹ میں 10 ملین ریال کے بدلے 15 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جو کسی مستحکم مالی نظام کے بجائے شدید قیاس آرائی پر مبنی طلب کی عکاسی کرتی ہے۔

تاجروں اور سرمایہ کاروں کے مطابق یہ رجحان زیادہ تر اس توقع کی وجہ سے ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں کمی سے ایرانی ریال کی قدر میں مزید بہتری آسکتی ہے۔ اسی وجہ سے چھوٹے سرمایہ کار بھی تیزی سے منافع کے لیے مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔

ساتھ ہی ایران سے سرحدی تجارت، خاص طور پر غیر رسمی طور پر ایندھن اور ضروری اشیاء کی درآمد، نے بھی ایرانی کرنسی کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert