تربت: ضلع کیچ کا تعلیمی نظام شدید زبوں حالی کا شکار، اساتذہ کی اہلیت اور جعلی ڈگریوں پر عوامی حلقوں کی شدید تشویش

تربت (قدرت روزنامہ)ضلع کیچ میں تعلیمی نظام کی سنگین زبوں حالی اور اساتذہ کی اہلیت کے حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ مقامی عوامی حلقوں نے ایس بی کے (SBK) اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعینات ہونے والے اساتذہ کی قابلیت پر کڑے سوالات اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ متعدد اسکولوں میں ایسے اساتذہ فرائض انجام دے رہے ہیں جو بچوں کو بنیادی تعلیم فراہم کرنے کی صلاحیت سے بھی یکسر محروم ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، عوامی حلقوں نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان کے پرائمری اور مڈل اسکولوں کا نصاب تو انگریزی میڈیم میں منتقل کر دیا گیا ہے، لیکن ان اسکولوں میں تعینات اکثریت اساتذہ کو انگریزی زبان پر قطعی عبور حاصل نہیں۔ نصاب اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اس تضاد کے باعث طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور ان کا مستقبل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
اس کے علاوہ نظامِ تعلیم میں بدعنوانی کے حوالے سے یہ تہلکہ خیز انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ بعض کنٹریکٹ اساتذہ صرف کاغذوں کی حد تک ڈگریوں کے حامل ہیں جبکہ ان کی اصل تعلیمی قابلیت انتہائی مشکوک ہے۔ شہریوں کا دعویٰ ہے کہ کئی افراد نے مبینہ طور پر دوسروں کی جگہ (پراکسی) امتحانات دلوا کر ڈگریاں حاصل کی ہیں، جس نے پورے تعلیمی نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ مزید برآں، کئی اسکولوں میں اصل تعینات شدہ اساتذہ ڈیوٹی سے غائب ہیں اور ان کی جگہ ‘عوضی’ افراد پڑھا رہے ہیں، جو نہ صرف ایک غیر قانونی عمل ہے بلکہ نونہالوں کے مستقبل کے ساتھ سنگین کھلواڑ بھی ہے۔
عوامی حلقوں، والدین اور باشعور شہریوں نے اس گھمبیر صورتحال پر متعلقہ حکام کی مجرمانہ خاموشی پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومتِ بلوچستان اور محکمہ تعلیم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کیچ میں تعلیمی تباہی کو روکنے کے لیے اساتذہ کی اہلیت کا فوری ازسرنو جائزہ لیا جائے، جعلی ڈگریوں اور عوضی اساتذہ کے نظام کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
