غیر ملکی افراد کی موجودگی اور مبینہ فارن فنڈنگ، حکومتِ بلوچستان کا غیر رجسٹرڈ مدارس کی جانچ پڑتال کا فیصلہ

صوبے میں 300 کے قریب غیر قانونی مدارس کی نشاندہی، قانون کے دائرے میں لانے کے لیے جے یو آئی سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا جائے گا


کوئٹہ (ڈیلی قدرت)حکومتِ بلوچستان نے صوبے میں غیر رجسٹرڈ مدارس میں مبینہ فارن فنڈنگ اور غیر ملکی افراد کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد رجسٹریشن کے عمل کو مزید مربوط اور مثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، صوبے میں تقریبا 300 ایسے مدارس کی نشاندہی ہوئی ہے جو قانونی طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں اور وہاں مشکوک سرگرمیوں کی اطلاعات پر متعلقہ ادارے جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں مجموعی طور پر 2600 مدارس فعال ہیں، جن میں سے 2200 پہلے ہی رجسٹرڈ ہیں جبکہ بقیہ کی رجسٹریشن کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل کو شفاف بنانے اور کسی بھی ممکنہ غلط فہمی سے بچنے کے لیے جمیعت علمائے اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع سمیت دیگر مذہبی رہنماں کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد تمام مدارس کو ‘بلوچستان چیریٹیز ایکٹ 2019’ کے تحت قانون کے دائرے میں لانا ہے تاکہ ان کی سرگرمیاں واضح ہو سکیں۔ رجسٹریشن مکمل ہونے سے نہ صرف ان اداروں کی قانونی حیثیت مستحکم ہوگی بلکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام بھی ممکن ہو سکے گی، جس کے لیے باہمی مشاورت کے ذریعے عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert