جس قدر ممکن ہوا حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کو برداشت کیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے پر وفاقی وزیر پٹرولیم کا کہنا ہے کہ جس قدر ممکن ہوا حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کو برداشت کیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ “علاقائی کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ ہو رہا ہے، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ اور عالمی شراکت داروں سے معاہدوں کی وجہ سے حکومت کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ منتقل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔
ان حالات کے پیش نظر آئندہ ہفتے کیلئے ڈیزل کی قمیت میں 26.77 روپے اور پیٹرول کی قیمت میں 26.77 روپے کا اضافہ کیا جارہا ہے۔
جس قدر ممکن ہوا، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کو برداشت کیا۔ وفاقی حکومت سمیت تمام صوبائی حکومتوں نے عوام کو تاریخی ریلیف پیکیج دیا۔ دعاگو ہیں کہ جلد علاقائی امن کے حصول میں پیش رفت ہو اور عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
” واضح رہے کہ حکومت نے رات کی تاریکی میں عوام پر پٹرول بم گرا دیا، وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔ وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل دونوں کی فی لیٹر قیمت میں 26 روپے 77 پیسے کا اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے سے پٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے ہو گئی، جبکہ ڈیزل کی نئی فی لیٹر قیمت 38. روپے 19 پیسے ہو گئی۔ نئی قیمتوں کا آج رات 12 بجے سے اطلاق ہو گا۔
جبکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو آگ لگ گئی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل اور امریکی خام تیل کی قیمتیں پھر سے بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت جمعے کی صبح بڑھ کر 106.80 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی جو بدھ کے مقابلے میں تقریبا 5 فیصد زیادہ ہے، اس سے قبل قیمت 100 ڈالرز سے بھی اوپر جا چکی تھی۔
