ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز،پی ٹی اے نے بڑااقدام اٹھالیا


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTCL) نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کے معیار سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ متعدد براڈ بینڈ کمپنیوں کی کارکردگی مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتر سکی۔
رپورٹ کے مطابق ملک کے 31 بڑے شہروں، جن میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان بھی شامل ہیں، میں انٹرنیٹ کی رفتار سست اور معیار متاثر پایا گیا ہے۔
کوالٹی آف سروس رپورٹ کیا کہتی ہے؟
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ “کوالٹی آف سروس (QoS)” رپورٹ برائے پہلی سہ ماہی 2026 کے مطابق فکسڈ لائن براڈ بینڈ سروسز کا جائزہ بنیادی کارکردگی کے معیار (KPIs) کی بنیاد پر لیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ زیادہ تر آپریٹرز نیٹ ورک کی دستیابی، لیٹنسی اور جِٹر جیسے بنیادی معیار پورے کر رہے ہیں، تاہم مجموعی کارکردگی میں واضح خلا موجود ہے۔
انٹرنیٹ سست کیوں ہوا؟
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پیک آورز (مصروف اوقات) میں زیادہ ڈیٹا استعمال ہونے کے باعث نیٹ ورک پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار کم اور صارفین کا تجربہ متاثر ہوتا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ڈیٹا ٹریفک میں لیٹنسی (تاخیر) کے مسائل بھی سامنے آئے ہیں، جو نیٹ ورک روٹنگ اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
کمپنیوں کو فوری ہدایات
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے تمام متعلقہ انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان (ISPs) کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے نیٹ ورک میں بہتری لائیں اور معیار کے مقررہ اصولوں (QoS standards) پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
صارفین کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ کی سست رفتار کا براہ راست اثر آن لائن تعلیم، کاروبار، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل سروسز پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر شہری علاقوں اور دور دراز خطوں میں صارفین کو اس مسئلے کا زیادہ سامنا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ وہ ملک بھر میں براڈ بینڈ معیار بہتر بنانے کے لیے مسلسل نگرانی جاری رکھے گا اور سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی کارکردگی کو باقاعدگی سے جانچا جائے گا۔
رپورٹ کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ویب سائٹ پر عوامی آگاہی کے لیے بھی جاری کر دیا گیا ہے، تاکہ صارفین کو انٹرنیٹ سروسز کی اصل صورتحال سے آگاہ رکھا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert