پاکستان نے ایران سے مذاکرات کے دوران امریکی فوجی کارروائی سے گریز کی درخواست کی ہے، صدر ٹرمپ

واشنگٹن (قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہ کی جائے۔

ٹرمپ کا یہ بیان خلیجِ ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد سامنے آیا ہے،

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کی جانب سے 3 امریکی جنگی جہازوں پر حملے کے باوجود جنگ بندی بدستور برقرار ہے۔

امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ پہل امریکا نے کی تھی۔

یہ کشیدگی اس نازک جنگ بندی کے لیے خطرہ بن گئی ہے جو 8 اپریل سے نافذ ہے اور جس نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر ہفتوں پرانے حملوں کو روکا تھا۔

ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں حملے کیے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز کو متاثر کیا۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے چل رہے ہیں اور تہران معاہدہ کرنے کا زیادہ خواہش مند ہے۔

انہوں نے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں اسلام آباد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

‘پاکستان نے ہم سے کہا کہ ہم اس وقت فوجی کارروائی نہ کریں، اگر ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ دیکھیں گے، لیکن مذاکرات کے دوران انہوں نے یہی درخواست کی۔’

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور پاکستان کی طرف سے موصول ہونے والے پیغامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق امید ہے کہ فریقین جلد کسی پائیدار اور پرامن معاہدے تک پہنچ جائیں گے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert