مولانا طارق جمیل کے بچے کے ساتھ مصافحہ نہ کرنے پر ان کے بیٹے نے وضاحت جاری کردی


لاہور (قدرت روزنامہ) معروف مبلغِ اسلام مولانا طارق جمیل کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ایک بچے سے مصافحہ کیے بغیر گزر جاتے ہیں، جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اب اس معاملے پر ان کے صاحبزادے مولانا یوسف جمیل کا تفصیلی وضاحتی بیان سامنے آگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں مولانا طارق جمیل کو ایک بچے سے ہاتھ ملائے بغیر آگے بڑھتے دیکھا گیا، یہ وہڈیو سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے، اس واقعے پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ان کے بیٹے یوسف جمیل نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے واقعے کی وجوہات بیان کی ہیں۔
مولانا یوسف جمیل نے اپنے بیان کی ابتداء میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اخلاقی طور پر ہاتھ ملانا ہی بہتر تھا اور پہلی بات تو یہ کہ بالکل مصافحہ کرنا چاہیئے تھا، اگر مصافحہ کرلیتے تو کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں تھا، مولانا طارق جمیل کی پوری زندگی لوگوں سے ملنے اور پیار بانٹنے میں گزری ہے، آپ یقین مانیں اگر زندگی بھر ان کے مصافحے آپ گننا چاہیں تو وہ کروڑوں میں ہوں گے، انہوں نے ہمیشہ ہر طبقے کے لوگوں سے محبت سے ملاقات کی ہے، مولانا طارق جمیل نے ہمیشہ لوگوں سے محبت اور شفقت کا رشتہ رکھا ہے، یہ واقعہ محض ایک اتفاقی انسانی کوتاہی یا تھکن کا نتیجہ تھا، کوئی دانستہ بے رخی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مولانا طارق جمیل کے کروڑوں چاہنے والے موجود ہیں جو ان سے ملنے، ہاتھ ملانے اور یادگار کے طور پر تصاویر یا سیلفیاں بنوانے کے لیے بے تاب رہتے ہیں، مولانا خود بھی عوام کی اس محبت کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، میں بطور بیٹا اس بات کا گواہ ہوں کہ اگر آپ صرف ایک دن مولانا کے ساتھ گزار کر دیکھیں، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ روزانہ کتنی بڑی تعداد میں لوگ ان سے ملاقات کرتے ہیں اور وہ کس صبر و تحمل سے ان سب کو وقت دیتے ہیں۔
مولانا یوسف جمیل کہتے ہیں کہ جہاں تک وائرل ویڈیو کا تعلق ہے، تو یہ رمضان المبارک کی ایک رات کا واقعہ ہے جب مولانا ایک مدرسے میں ختمِ قرآن کی تقریب میں شریک تھے، ویڈیو میں نظر آنے والا بچہ کوئی اجنبی نہیں بلکہ ہمارے اپنے مدرسے کا طالب علم ہے جس کی اکثر مولانا سے ملاقات رہتی ہے، اس دن روزے، عبادات اور ورزش کی وجہ سے مولانا شدید تھکن کا شکار تھے اور انہیں اسی حالت میں بیان بھی کرنا تھا، ایسی جسمانی و ذہنی تھکن کی صورت میں اگر نادانستہ طور پر کوئی شخص نظر انداز ہو جائے، جو کہ یقیناً نہیں ہونا چاہیے تھا، تو ہمیں انسانی تقاضوں کے تحت گنجائش دینی چاہیئے، آپ بے شک تنقید کریں لیکن حقیقتِ حال اور مولانا کی عمر و شخصیت کا لحاظ رکھتے ہوئے تصویر کا دوسرا رخ بھی ضرور دیکھیں۔

WhatsApp
Get Alert