بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر،پنجگور نوشکی اور مستونگ میں فائرنگ اور دھماکے، 3 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ، کسٹم پوسٹ عملے کو یرغمال اور معدنیات کی 5گاڑیاں نذرِ آتش

، قومی شاہراہ پر مسلح افراد کی ناکہ بندی سے ٹریفک معطل پل کو دھماکے سے نقصان اور سرکاری گاڑی کی چھیناجھپٹی، سکیورٹی فورسز کا صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن تفتان شاہراہ پر مسافروں میں شدید خوف و ہراس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ملزمان کی گرفتاری کے لیے گھیرا تنگ


پنجگور، مستونگ, نوشکی (قدرت روزنامہ)بلوچستان کے اضلاع پنجگور، مستونگ اور نوشکی میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے پے در پے واقعات نے صوبے کو لرزا کر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق، 5 زخمی اور وسیع پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے۔ پنجگور کے علاقے گوارگو فتح علی میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس سے 3 افراد موقع پر جاں بحق اور 5 زخمی ہو گئے۔ مستونگ کے علاقے جدید آباد میں شرپسندوں نے پل کے نیچے دھماکہ خیز مواد سے دھماکہ کیا، جس سے پل کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایک اور واقعے میں مکوئی ڈن کے مقام پر کسٹم چیک پوسٹ پر حملہ کر کے عملے کو یرغمال بنایا گیا، دو کمرے نذرِ آتش کیے گئے اور سرکاری گاڑی چھین لی گئی۔ادھر کوئٹہ-تفتان شاہراہ پر مسلح افراد نے مستونگ کے علاقے کانک میں کرومائیٹ سے بھری 5 گاڑیوں کو آگ لگا دی، جبکہ نوشکی کے علاقے مل میں مسلح افراد نے شاہراہ کی ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی تلاشی شروع کر دی، جس سے مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ سکیورٹی فورسز اور پولیس نے تمام متاثرہ علاقوں کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور شاہراہوں کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert