قیدی نمبر 804 کو جیل سے نکالیں، میں اس کا مقابلہ کروں گا، علی موسیٰ گیلانی کا چیلنج
وہ اتنا بڑا کوئی طوفان یا توپ چیز نہیں ہے، اس کو ہوا بنایا ہوا ہے، ہمیں کوئی ڈر اور خوف نہیں ہے، ہم سیاسی لوگ ہیں، اس کو جمہوری نکیل ڈال کر رکھیں گے؛ پیپلزپارٹی کے رہنماء کا بیان

ملتان(قدرت روزنامہ)پیپلز پارٹی کے نوجوان رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی نے اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کو براہِ راست الیکشن کے میدان میں ٹکر لینے کا چیلنج دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما علی موسیٰ گیلانی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں “سیاسی میدان” میں آنے کی دعوت دے دی، انہوں نے واضح کیا کہ وہ عمران خان سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی انہیں ‘قیدی نمبر 804’ کے نام سے کوئی خوف ہے۔
اس حوالے سے علی موسیٰ گیلانی نے اپنے تندوتیز ویڈیو بیان میں کہا کہ عمران خان کو ایک مصنوعی ہوا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، حقیقت میں وہ کوئی اتنا بڑا طوفان نہیں ہیں، نکالیں عمران خان کو جیل سے، وہ آئے اور میرے خلاف الیکشن لڑ کر دکھائے، ہمیں کوئی ڈر اور خوف نہیں ہے، جن کو ڈر ہے وہ اس کے خواب دیکھیں، ہم سیاسی لوگ ہیں اور اسے جمہوری نکیل ڈال کر رکھیں گے۔
قیدی نمبر 804 کا مقابلہ میں کرتا ہوں ،نکالیں اسکو جیل سے میں اسکے مقابلے میں الیکشن لڑوں گا ،قیدی نمبر 804 کا نام لینے کی اجازات دی جائے وہ کوئی توپ چیزیں نہیں ہے ،اسکو ہوا بنایا ہوا ہے ۔نکالیں عمران خان کو جیل سے وہ آئے میرے خلاف الیکشن لڑئے ،جیل میں بیٹھے عمران خان کو موسی… pic.twitter.com/MlaRUfbDfR
— Arif Malik (@arifawan779) May 18, 2026
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا نام لینے پر لگی مبینہ پابندی ختم ہونی چاہیے کیونکہ وہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس کا نام نہ لیا جا سکے، سیاست دانوں کو جیلوں کے پیچھے رکھ کر ہیرو بنانے کے بجائے انہیں انتخابی اکھاڑے میں شکست دینی چاہیئے، صرف پاکستان پیپلز پارٹی عمران خان کے سیاسی بیانیے کو ووٹ کی طاقت سے شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان جو اس وقت متعدد مقدمات میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور تکنیکی طور پر نااہلی کے باعث الیکشن لڑنے سے قاصر ہیں، ان کے بارے میں علی موسیٰ گیلانی کا یہ بیان آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتا ہے، پی ٹی آئی کے حامیوں اور پیپلز پارٹی کے جیالوں کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی ہے، پی ٹی آئی کے حامی اسے سستی شہرت قرار دے رہے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کے حامی اسے اپنے نوجوان لیڈر کی بہادری سے تعبیر کر رہے ہیں۔
