بلوچستان میں بڑھتی بدامنی، اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی رہنماں کے خلاف کارروائیاں تشویشناک ہیں، عوامی نیشنل پارٹی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی ترجمان نے اپنے ایک تفصیلی و سخت تشویشناک بیان میں بلوچستان بھر میں بڑھتی ہوئی بدامنی، عدم تحفظ، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان کے سنگین واقعات اور سیاسی رہنماں و کارکنوں کے خلاف بلاجواز کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال مسلسل ابتر ہوتی جا رہی ہے، جس کے خطرناک اور منفی اثرات خصوصا پشتون اور بلوچ بیلٹ میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اے این پی نے معروف دانشور اور استاد پروفیسر حیات غم خوار کی ٹارگٹ کلنگ، پروفیسر صابر اور ان کے ساتھیوں کے مبینہ اغوا، جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی میر عبد الرف مینگل کی رہائش گاہ پر فورسز کے چھاپے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔صوبائی بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں جاری فرسودہ جنگی بیانیے کے تباہ کن نتائج اب ایک نئی اور انتہائی خطرناک شکل میں سامنے آ رہے ہیں، جہاں مختلف اضلاع میں مسلح جتھوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے پرامن عوام میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو موجودہ حالات صوبے کو عملا خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے کا سبب بن سکتے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف صوبہ بھر میں بلکہ پورے ملک کے امن و استحکام پر مرتب ہوں گے۔ بیان میں اس امر پر بھی سخت تشویش ظاہر کی گئی کہ صوبے کی کم وبیش تمام قومی شاہراہیں (ہائی ویز) عدم تحفظ کا شکار ہو چکی ہیں، جہاں مسافروں، تاجروں اور عام شہریوں کو آئے روز مسلح ڈکیتیوں اور جان لیوا خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؛ عوام عدم تحفظ، بے یقینی اور خوف کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ حکومتی دعوے زمینی حقائق سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔اے این پی کے رہنماں نے واضح کیا کہ موجودہ کرب ناک اور کشیدہ حالات سے اگر چند مخصوص افراد، بیوروکریٹس یا مراعات یافتہ طبقات مستفید ہو رہے ہیں، تو اسے صوبے کی مجموعی خوشحالی یا بہتری ہرگز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چند افراد کی معاشی یا سیاسی مضبوطی کو عوامی فلاح سے تعبیر کرنا حقائق کے برعکس ہے، کیونکہ صوبے کا عام شہری آج بھی جان و مال کے تحفظ، روزگار، مستقل امن اور بنیادی آئینی حقوق سے یکسر محروم ہے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست اور حکمرانوں کی اولین آئینی ذمہ داری ہے، لیکن اگر عوام خود کو غیر محفوظ تصور کریں، شاہراہیں مخدوش ہوں اور سیاسی و علمی شخصیات ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کا شکار ہوں، تو ایسے میں محض میڈیا بیانات اور سرکاری دعوں سے حالات کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ عوامی نیشنل پارٹی حکومت و ریاست کے مقتدر حلقوں سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، مسلح جتھوں کا خاتمہ کیا جائے اور سیاسی کارکنوں، اساتذہ، دانشوروں اور عام شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
