لاپتہ افراد بلوچستان کا سب سے بڑا انسانی مسئلہ ہے، مولانا ہدایت الرحمان بلوچ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کا سب سے بڑا انسانی مسئلہ زندہ افراد کا ماورائے آئین و قانون لاپتا ہونا ہے، جس سے خاندانوں کے خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔
کوئٹہ میں وفود سے ملاقات اور اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک فرد کے لاپتا ہونے کے بعد اس کے اہل خانہ برسوں انصاف کے منتظر رہتے ہیں جبکہ بعض اوقات لاپتا افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کی اطلاعات بھی سامنے آتی ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت، قانون اور بات چیت کے بجائے طاقت اور آپریشن کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوششیں ناکام ثابت ہو رہی ہیں، جبکہ ان حالات میں متاثرہ خاندان خوف اور دباؤ کے باعث کھل کر بات نہیں کر پاتے۔
مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ سیاسی و عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آخر کب تک نوجوان لاپتا ہوتے رہیں گے اور خاندان انصاف کے لیے دربدر رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت، ریاستی اداروں اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف تحقیقات یقینی بنائیں، لاپتا افراد کو عدالتوں میں پیش کریں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ خاموشی اور طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں، انصاف، قانون، آئین اور جوابدہی ہی پائیدار امن کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 10 واضح طور پر کہتا ہے کہ ہر شخص کو 24 گھنٹے میں عدالت میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی پر الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، اور اگر وہ بے گناہ ہے تو رہا کیا جائے۔ لاپتا کر کے خاموش رہنا انصاف نہیں بلکہ ظلم ہے۔
مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ جب ریاست، عدالت اور سیاست خاموش ہو جائیں تو ماں کا سوال لاوارث ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگی کسی ایک پارٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ریاست، عدالت اور پارلیمنٹ کی ناکامی ہے۔ جماعت اسلامی اور لاپتا افراد کے لواحقین کا مطالبہ ہے کہ تمام لاپتا افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے یا رہا کیا جائے اور ماورائے عدالت اقدامات کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی لاپتا افراد کی بحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert