زیارت میں دہشت گردی کا واقعہ، ریاستی رٹ پر سوالات اٹھ گئے: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ضلع زیارت کے علاقے مانگی ڈیم میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال اور ریاستی اداروں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مسلح دہشت گردوں نے پانچ ٹرکوں اور دو ٹریکٹروں کو نذرِ آتش کیا، کروڑوں روپے مالیت کی املاک تباہ کیں اور ڈرائیوروں مسعود خان، اشرف خان، جاوید خان اور شین گل خان کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ نہ صرف افسوسناک اور انسانیت سوز ہے بلکہ حکومتی رٹ اور سیکیورٹی انتظامات پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مطابق واقعے کے مقام کے قریب سیکیورٹی فورسز کی متعدد چیک پوسٹیں موجود ہونے کے باوجود دہشت گرد کارروائی کرکے باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جو سیکیورٹی نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ عوام پر چیک پوسٹوں اور ناکہ بندیوں کا بوجھ تو بڑھایا جا رہا ہے مگر دہشت گردی روکنے میں کوئی مؤثر پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ جدید ڈرون نگرانی اور انٹیلی جنس نظام کے باوجود بروقت کارروائی نہ ہونا بھی تشویشناک ہے۔
پارٹی نے مزید کہا کہ زیارت کراس سے چپرلیٹ اور ہرنائی تک کا پورا علاقہ مسلسل بدامنی، اغوا برائے تاوان اور لوٹ مار کا شکار ہے، جس سے ٹرانسپورٹرز، مزدور اور عام شہری شدید عدم تحفظ میں مبتلا ہیں۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ اغوا کیے گئے ڈرائیوروں کو فوری طور پر بحفاظت بازیاب کرایا جائے، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے، اور زیارت تا ہرنائی شاہراہ کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جائے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ ہوگا جس کی ذمہ داری حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر عائد ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert