موجو حکومت تاریخ کی بدترین، متعصب اور پشتون دشمن حکومت ثابت ہوئی ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

صوبے کو عملی طور پر دو قومیتی صوبہ قرار دیا جائے، نئے اضلاع اور ڈویژنز میں یکطرفہ اضافہ تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا، اسمبلی میں موجود پشتون نمائندوں کی مجرمانہ خاموشی پر شدید تشویش


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پشتون بلوچ صوبے میں قائم موجودہ فارم 47 کی حکومت تاریخ کی بدترین، متعصب اور پشتون دشمن حکومت ثابت ہوئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران اس حکومت نے مسلسل ایسے اقدامات کیے ہیں جن کا بنیادی مقصد پشتون عوام کو قومی ،سیاسی، انتظامی، معاشی اور آئینی طور پر مزید کمزور کرنا ہے۔ پارٹی کے مطابق صوبے میں ڈویژنز، اضلاع، بجٹ، ترقیاتی منصوبوں، سرکاری ملازمتوں اور وسائل کی تقسیم مکمل طور پر یکطرفہ بنیادوں پر کی جا رہی ہے، جس کے باعث پشتون عوام میں شدید بے چینی، اضطراب اور احساسِ محرومی پیدا ہو چکی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ موجودہ حکومت نے صوبے کی دو بڑی قومی اکائیوں کے درمیان برابری کے اصول کو مسلسل پامال کیا ہے اور تمام اہم فیصلے پشتون عوام کی مرضی، مشاورت اور حقیقی نمائندگی کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔
پارٹی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور صوبے میں جاری ان عوام دشمن، غیر آئینی اور پشتون دشمن پالیسیوں کا راستہ روکے، کیونکہ یہ اقدامات نہ صرف سیاسی عدم استحکام بلکہ قومی محرومیوں، نفرتوں اور بداعتمادی میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔پریس ریلیز میں تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ برٹش بلوچستان اور قلات سٹیٹ یونین دو الگ الگ تاریخی، آئینی اور انتظامی اکائیاں تھیں۔ 1951ء سے 1953ء تک مختلف آئینی فارمولوں اور سفارشات میں بھی برٹش بلوچستان، یعنی جنوبی پشتونخوا، کو ایک الگ اور مکمل صوبے کی حیثیت دینے کی سفارش موجود تھی۔ مگر بدقسمتی سے 1970ء میں جنرل یحیٰی کے مارشلائ حکم پر پشتون عوام کی مرضی، منشاء اور قومی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے موجودہ صوبہ تشکیل دیا گیا۔
بیان کے مطابق اس غیر فطری اور غیر متوازن انتظامی بندوبست کے بعد گزشتہ چھپن برسوں کے دوران تمام اہم قومی ،انتظامی، سیاسی اور معاشی فیصلے مسلسل یکطرفہ انداز میں کیے جاتے رہے، جس کے نتیجے میں آج پشتون عوام اپنے ہی وسائل، سرزمین اور جغرافیے پر تیسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ کوٹہ سسٹم، جعلی مردم شماریوں، من گھڑت اعدادوشمار اور غیر حقیقی آبادی کے اعداد و شمار کے ذریعے نہ صرف ڈویژنز اور اضلاع کی تعداد میں اضافہ کیا گیا بلکہ انہی جعلی بنیادوں پر صوبائی اور قومی اسمبلی کے حلقے بھی بڑھائے گئے۔ پارٹی کے مطابق یہ تمام اقدامات ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت پشتون اکثریتی علاقوں کی قومی ،سیاسی، انتظامی اور آئینی حیثیت کو کمزور کرنے کے لیے کیے گئے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اب ایک بار پھر نئے اضلاع اور ڈویژنز کے قیام میں یکطرفہ اضافہ اس صوبے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا، جس کے سنگین سیاسی، انتظامی اور قومی نتائج برآمد ہوں گے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ پشتون افغان غیور ملت ان پشتون دشمن اقدامات کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ پارٹی اس سلسلے میں قومی،آئینی، جمہوری اور سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کرے گی اور تمام پشتون عوام، سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، دانشوروں، نوجوانوں اور قومی قوتوں پر مشتمل پشتون قوتوں کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد اپنی قومی وجود کی بقاء کے لئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گا،، جس میں پشتون قومی حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم، حلقہ بندیوں، مردم شماری، انتظامی ناانصافیوں، پشتون دشمن مائنز منرل ایکٹ اور صوبے کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
بیان میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جب تک پشتون متحدہ قومی وحدت کا قیام عمل میں نہیں آتا، اس وقت تک صوبے کی دو بڑی اقوام، پشتون اور بلوچ، کے درمیان آئینی اور روایتی بنیادوں پر برابری کے اصول کو تسلیم کیا جائے اور صوبے کو عملی طور پر دو قومیتی صوبہ قرار دیا جائے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ دونوں اقوام کے درمیان تمام وسائل، بجٹ، ترقیاتی منصوبے، سرکاری ملازمتیں، حلقہ بندیاں، اضلاع، ڈویژنز اور انتظامی اختیارات مکمل برابری کی بنیاد پر تقسیم کیے جائیں۔ پارٹی کے مطابق اس وقت صوبے میں انتظامی تقسیم اور وسائل کی بندربانٹ ایک مخصوص ذہنیت اور سیاسی مفادات کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا مقصد پشتون عوام کو مسلسل دیوار سے لگانا اور ان کے قومی و آئینی حقوق سے محروم رکھنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حالیہ دنوں میں حکومت نے ایک بار پھر نئے اضلاع اور ڈویژنز کے قیام کا اعلان کیا، مگر پشتون علاقوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ حالانکہ کاریزات اور مسلم باغ تمام انتظامی، جغرافیائی اور آبادیاتی شرائط پوری کرتے ہیں اور انہیں فوری طور پر ضلع کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سنجاوی، ژوب، مخیتر اور دیگر دور افتادہ پشتون علاقوں میں بھی نئے اضلاع قائم کرنے کی مکمل گنجائش موجود ہے، مگر دانستہ طور پر پشتون علاقوں کو ان کے آئینی، انتظامی اور سیاسی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ گورنر اور وزیراعلیٰ جیسے اہم آئینی عہدوں پر پشتون اور بلوچ اقوام کو روٹیشن کی بنیاد پر نمائندگی دی جانی چاہیے تاکہ دونوں اقوام کے درمیان اعتماد، مساوات، شراکت داری اور باہمی احترام کی فضا قائم ہو سکے۔ پارٹی کے مطابق اگر صوبے کے انتظامی اور آئینی معاملات میں برابری کے اصول کو تسلیم نہ کیا گیا تو اس سے محرومیوں اور احساسِ بیگانگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
بیان میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے موجودہ حکومت کے تمام پشتون دشمن اقدامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ صوبے میں جاری یکطرفہ فیصلوں، انتظامی ناانصافیوں اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کو فوری طور پر روکا جائے۔بیان میں اس امر پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا گیا کہ صوبائی اسمبلی اور کابینہ میں موجود پشتون نمائندوں نے ان تمام اہم قومی معاملات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ بیان کے مطابق پشتون عوام کے حقوق، وسائل، اضلاع، حلقہ بندیوں، مردم شماری اور انتظامی ناانصافیوں جیسے اہم معاملات پر خاموش رہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ نمائندے نہ صرف خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ اس سیاسی ناانصافی، قومی محرومی اور تاریخی جرم میں برابر کے شریک بھی ہیں۔
write English news With headline

WhatsApp
Get Alert