نادرا کی بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے نئی ایڈوائزری، غیر مجاز ایجنٹس سے خبردار

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نئی عوامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہری اپنے شناختی دستاویزات اور آن لائن درخواستوں کے لیے غیر منظور شدہ کنسلٹنٹس، ایجنٹس یا تھرڈ پارٹی سروسز پر انحصار نہ کریں۔
نادرا کے مطابق دنیا بھر میں کسی بھی نجی فرد، فرم یا اوورسیز سروس فراہم کنندہ کو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز سے متعلق درخواستیں جمع کرنے، فیس وصول کرنے یا دستاویزات کے اجرا کا اختیار نہیں دیا گیا۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی صرف نادرا کے سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کریں تاکہ فراڈ، شناختی چوری اور مالی دھوکہ دہی سے محفوظ رہا جا سکے۔
نادرا نے واضح کیا کہ مستند آن لائن خدمات صرف اس کی سرکاری ویب سائٹ اور “پاک آئیڈنٹیٹی” (Pak Identity) پورٹل کے ذریعے دستیاب ہیں، جہاں سے شہری گھر بیٹھے CNIC، NICOP، POC، CRC اور FRC جیسی دستاویزات کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
اتھارٹی نے مزید کہا کہ شہری کسی بھی ویب سائٹ کو استعمال کرنے سے پہلے یہ ضرور چیک کریں کہ اس کا ڈومین “.gov.pk” ہو، کیونکہ صرف اسی ڈومین کے تحت چلنے والی ویب سائٹس سرکاری طور پر منظور شدہ ہیں۔
نادرا کے مطابق حالیہ عرصے میں جعلی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کے ذریعے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جنہیں سرکاری پورٹلز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
ادارے نے عوام پر زور دیا کہ وہ درخواستوں، معلومات اور شکایات کے لیے صرف نادرا کے آفیشل چینلز، ہیلپ لائن اور ای میل سروسز سے رجوع کریں اور غیر مصدقہ لنکس یا مشکوک پیغامات سے گریز کریں۔
