پیپلزپارٹی کا وفاقی بجٹ میں تنخواہ پنشن میں 50 فیصد اضافے اور ماہانہ اجرت 60 ہزار روپے کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ وپنشن میں50 فیصد اضافے کا مطالبہ کردیا ہے، اسی طرح ماہانہ اجرت بڑھا کر 60 ہزار روپے کرنے کی تجویز بھی دے دی ہے۔ اے آروائی نیوز کے مطابق پیپلزپارٹی پارٹی نے غریب اور ملازمت پیشہ طبقے کو ریلیف دینے کیلئے بجٹ تجاویز حکومت کے سامنے رکھ دی ہیں۔
اسی طرح وفاقی بجٹ کی منظوری سے قبل پیپلزپارٹی کے دو بڑے مطالبات بھی سامنے آگئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی تجویز ہے کہ مہنگائی اور معاشی صورتحال کے باعث سرکاری ملازمین کی تنخواہ پنشن میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔ اسی طرح کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 60 ہزار روپے کرنی چاہیئے۔ پیپلزپارٹی بجٹ میں نئے ٹیکسز اور پٹرولیم لیوی بڑھانے کے اقدامات کے بھی سخت خلاف ہے۔
پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اب عوام پر مزید بوجھ ڈالنا ظلم ہوگا۔ مزید برآں نیوز ایجنسی کے مطابق حکومت کو بجٹ منظوری کیلئے پیپلز پارٹی کی جانب سے گرین سگنل مل گیا، اہم بیٹھک کے دوران حکومت اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کی بیشتر بجٹ تجاویز سے اتفاق کرلیا۔ ذرائع کے مطابق بعض قابل عمل نکات پر تکنیکی کمیٹیاں مشاورت جاری رکھیں گی۔خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں حکومتی ٹیم پیپلز پارٹی وفد کے وفد سے ملاقات کیلئے ایوان صدر پہنچی جہاں صدر مملکت نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور وزارت خزانہ کے حکام وزیراعظم کے ساتھ موجود تھے۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت کر رہے تھے جبکہ پیپلز پارٹی کی بجٹ کمیٹی کے ارکان بھی بلاول بھٹو زرداری اور صدر مملکت کے ہمراہ موجود تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایوان صدر میں ہونے والی اس ملاقات میں وفاقی بجٹ سمیت دیگر اہم امور پر گفتگو کی گئی جبکہ آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر بھی ملاقات میں شریک تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان الیکشن میں کامیابی پر صدر مملکت آصف علی زرداری کو مبارکباد دی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے کہا، نوجوان بلاول نے ہم سے بہتر انتخابی مہم چلائی جس پر صدر مملکت نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، آخر بیٹا کس کا ہے ۔
