عوام مریم نواز کو دعائیں دے رہے ہیں، ہم وزیراعلیٰ پنجاب کے قصیدے کیوں نہ پڑھیں، عظمیٰ بخاری

لاہور (قدرت روزنامہ)صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کیلئے کھوکھلے نعرے لگانے والے تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو انہیں اربوں روپے کے منصوبے اور وہاں ہونے والی ترقی نظر آئے گی، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے تمام منصوبوں میں جنوبی پنجاب کے اضلاع کو ترجیح دی ہے، یہ بے شک وزیراعلیٰ کو تحسین پیش نہ کریں لیکن جنوبی پنجاب کے عوام وزیراعلیٰ مریم نواز کو دعائیں دے رہے ہیں، لاہور اور پنجاب جیسی ترقی کسی او رصوبے میں ہے جو ہم سے دوسرا صوبہ مانگتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر عام بحث کے دوران تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے گزشتہ تین روز سے جو تقایر ہو رہی ہیں، اس میں اخلاق سے گری ہوئی گفتگو بھی کی گئی ہے، یہ آج بھی اپنی بات کا آغاز یہاں سے کر تے ہیں کہ بغاوت کا سماں کر دو اور ان کی بات کا اختتام گولیوں اور خون پر ہوتا ہے، انہوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا، انہوں نے نو مئی سے کوئی سبق نہیں لیا، پھر واویلا کرتے ہیں ہمارے ساتھ ظلم ہو گیا، ستم ہو گیا۔
صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ نو مئی کی ایک ایک ویڈیوز اورآڈیوز موجود ہیں کہ کس طرح جتھوں کو مطلوبہ جگہ دکھائی گئی، ان کی قیادت کی گئی اور وہاں آگ لگائی، آج بھی یہ باہر نکلتے ہیں تو یہ بات کرتے ہیں سر کاٹ دو، گولی خون کی بات کرتے ہیں، آخر کب تک ایسا چلے گا، میں نے قائد حزب اختلاف کی گفتگو بڑی توجہ سے سنی، ان کی ایک گھنٹے کی تقریر میں آخری پانچ منٹ پنجاب کے عوام کے بارے میں تھے، پھر یہ کہتے ہیں دوسرے غلط مینڈیٹ سے آئے ہیں ہم صرف صحیح مینڈیٹ سے آئے ہیں، یہ کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں لیکن جب ان سے ثبوت مانگے جائیں تو ان کے پاس سے کچھ نہیں نکلتا۔
انہوں نے کہا کہ یہاں کہا گیا 18ارب روپے میڈیا تشہیر کے لیے رکھا گیا ہے، جب میں ان سے ثبوت مانگوں گی لیکن ان سے کچھ نہیں نکلے گا، جس سے یہ لے کر آئے ہیں اس کو یہ خود صبح و شام گالیاں دیتے ہیں اور یہاں پر بغیر تصدیق کے 18 ارب کی بات دہرا دی گئی، اللہ کی شان دیکھیں کرپشن کی کس منہ سے کی جارہی ہیں، جو لوگ سلائی مشینوں سے اور زکوة خیرات سے امیر ہوئے ہیں وہ دوسروں پر کرپشن کی باتیں کریں گے، مجھے ان سے دلی ہمدردی ہے، ان بیچاروں پر علیمہ باجی کا بہت دباؤ ہے کیونکہ وہ ان کا ساتھ سلوک ہی ایسا کرتی ہیں۔
عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا کے چند یوٹیومرز اور ٹائیگرز ان کے گھٹنوں میں بیٹھ گئے ہیں، افسوس کی بات ہے علیمہ باجی انہیں اڈیالہ کے باہر ڈھونڈتی ہیں، یہ اڈیالہ کے باہر جائیں، یہ کہتے ہیں بانی کی بہنیں جیل کے باہر کھڑی ہوتی ہیں، ان کو خیال آنا چاہیے، آپ کو بہنوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، آپ میں سے کتنے وہاں جاتے ہیں؟ یہ ہم پر سیاسی تنقید کریں، پالیسیوں پر تنقید کریں وہ ہماری سر آنکھوں پرہوگی لیکن جب یہ سوشل میڈیا پر جھوٹی باتیں کریں گے، یوٹیومرز کی کہی ہوئی باتیں دہرائیں گے تو اسی طرح جواب دیا جا ئے گا۔
انہوں نے کہا کہ 2018ء میں جس مہاتما کی حکومت تھی اس وقت بھی سیلاب آیا تھا، جب سیلاب میں تونسہ کا دورہ کیا گیا تو کسانوں کو یہ سمجھایا گیا کہ سیلاب آپ کے لیے بہت بڑی نعمت ہے، اگلے سال آپ کی فصلیں بہت اچھی ہوں گی، مہاتما کے دباؤ میں آکر یہ بزدار جیسے نکمے کی تعریفوں میں زمین آسمان کے کلابے ملاتے رہے، ہمیں آج یہ کہتے ہیں کہ ہم قصیدے پڑھتے ہیں، جس خاتون وزیراعلیٰ کی محنت سے صوبے میں 100سے زائد منصوبے شروع ہوئے ہیں ہم کیوں نہ اس کے قصیدے پڑھیں، نامساعد حالات کے باجوود، آپ لوگوں کی جانب سے کردار کشی کے باوجود وہ ہر طرح ڈٹی ہوئی ہیں کہ انہوں نے پنجاب کے لوگوں کا خیال کرنا ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ ہمارے بہت سے اپنے بھی ہیں جن کو اچانک سے جنوبی پنجاب کا خیال آ گیا ہے کہ ان کو بھی صوبہ لینا ہے، محرومیاں بڑھی ہیں، اگر محرومیاں ایک ٹریڈ مارک ہے تو محرومیاں تو کراچی میں بڑھی ہیں، پشاور میں بڑی محرومیاں ہیں، لاہور اور پنجاب جیسی ترقی کسی او رصوبے میں ہے جو ہم سے دوسرا صوبہ مانگتے ہیں، یہ کھوکھلے نعرے لگاتے ہیں کہ صوبہ بنا لیں، بیور وکریسی کو لعن طعن کرتے ہیں، اپوزیشن کے لوگ حکومت پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کو یہ چاہیے کہ ان کے علاقوں میں الیکٹرک بسیں چلیں، الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں، آپ کو تعصب کی عینک اتارنی ہوگی ، یہ خود کہتے ہیں الیکٹرک بسیں تو چل رہی ہیں لیکن ہمارے حلقے کے اندر سے الیکٹرک بسیں نہیں گزرتیں۔
