پنجاب حکومت کا جاں بحق بچوں کے لواحقین کو 20،20 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان

کاہانہ (قدرت روزنامہ)کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے باعث جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کے لواحقین کو پنجاب حکومت نے 20، 20 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کر دیاہے۔

تفصیلات کے مطابق مشیر وزیراعلیٰ پنجاب ذیشان ملک نے کہا کہ جاں بحق بچوں کے والدین کو 20، 20 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز کاہنہ میں گھر میں بنے ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے مٹی تلے دب کر 14 بچے جان کی بازی ہار گئے جبکہ 8 بچے اور ایک ٹیچر انیلا زخمی ہوئیں جو کہ لاہور کے کاہنہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں زخمی ہونے والی ٹیوشن سنٹر کی مالکن اور خاتون ٹیچر انیلا لاہور جنرل اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ مالی مشکلات کے باعث گزشتہ دو سال سے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی ہیں۔

انیلا نے بتایا کہ ان کے شوہر منڈی کے قریب ریڑھی لگاتے ہیں، جبکہ گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے وہ ٹیوشن سنٹر چلاتی ہیں۔ ان کے مطابق ٹیوشن سنٹر میں مجموعی طور پر 30 سے 35 بچے زیر تعلیم ہیں، جبکہ واقعے کے روز 20 سے 22 بچے کلاس میں موجود تھے۔

زخمی خاتون ٹیچر نے بتایا کہ حالیہ بارشوں کے باعث چھت سے پانی ٹپکتا تھا، جس کی وجہ سے اس کی مرمت کا کام شروع کیا گیا تھا، تاہم انہیں ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ چھت اچانک گر جائے گی۔

انیلا کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ان کی بیٹی بھی زخمی ہوئی تھی، تاہم اس کی حالت بہتر ہونے پر اسے اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود زیر علاج ہونے کے باعث ابھی تک اپنی بیٹی سے ملاقات نہیں کر سکیں۔

کاہنہ سانحے کے بعد لاہور میں غیرقانونی ٹیوشن سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ضلعی ایجوکیشن اتھارٹی نے شہر بھر میں قائم غیررجسٹرڈ اور غیرقانونی ٹیوشن سینٹرز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے تمام افسران کو تین روز میں مکمل ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

غیرقانونی ٹیوشن سنٹرز کے خلاف کاروائی ہوگی، گھروں میں بغیر اجازت کمرشل استعمال پر جرمانے عائد ہوں گے، غیرقانونی ٹیوشن سنٹرز کو سیل کیا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert