وفاقی آئینی عدالت نے پولیس اصلاحات سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دیدیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی آئینی عدالت نے پولیس اصلاحات اور پولیس افسران کے خلاف کارروائی سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹس کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار حاصل نہیں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت 2 رکنی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ سندھ ہائیکورٹ کا پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم ازخود نوٹس کے مترادف تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالتی بینچ کے مطابق اس معاملے میں ہائیکورٹ کے روبرو پولیس افسران کے خلاف کوئی مقدمہ زیر سماعت نہیں تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فوجداری مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس اصلاحات اور پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دینا سندھ ہائیکورٹ کے دائرۂ اختیار سے تجاوز تھا، لہٰذا مذکورہ فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ پولیس افسران کے خلاف جاری انکوائری قانون کے مطابق مکمل کی جائے، تاہم سندھ ہائیکورٹ کا کالعدم قرار دیا گیا فیصلہ اس انکوائری پر کسی بھی صورت اثرانداز نہیں ہوگا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے تقریباً 30 سال پرانے فیصلے میں دی گئی اصلاحات کی روشنی میں احکامات جاری کیے تھے۔
جبکہ سندھ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کے نظام میں اس عرصے کے دوران متعدد نئے قوانین نافذ کیے جا چکے ہیں اور مختلف اصلاحات بھی عمل میں آ چکی ہیں۔
یہ مقدمہ پولیس افسران امجد احمد شیخ اور آصف علی کی جانب سے دائر اپیل پر سنا گیا، جنہوں نے سندھ ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں ایک فوجداری مقدمے کے دوران ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے ان کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
