بلوچستان ‘ وڈھ میں مسلح افراد کی فائرنگ اور مسلسل دھمکیوں کے بعد تاجر برادری نے بازار غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا‘مکمل ہڑتال


وڈھ(قدرت روزنامہ)ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، مسلسل دھمکیوں اور فائرنگ کے واقعات کے بعد مقامی تاجر برادری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وڈھ بازار کو غیر معینہ مدت کے لیے مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ بدھ کے روز تمام دکانیں، تجارتی مراکز اور کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، جبکہ پورا بازار سنسان منظر پیش کرتا رہا تاجر برادری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انہیں یکم جولائی سے بازار بند کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور مسلسل خوف و ہراس کی فضا کے باعث کاروبار کرنا ممکن نہیں رہا۔
ان کے مطابق تاجروں اور دکانداروں کو مختلف ذرائع سے بار بار دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوتے رہے، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے ان کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مثر اقدامات نہیں کیے گئے تاجروں نے کہا کہ گزشتہ کئی روز سے وڈھ میں حالات انتہائی غیر یقینی ہیں اور ہر شخص عدم تحفظ کا شکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے ماحول میں نہ صرف تاجروں بلکہ عام شہریوں، مزدوروں اور خریداروں کی زندگیاں بھی خطرے میں ہیں، اس لیے بازار کو غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا فیصلہ مجبوری کے تحت کیا گیا ہے۔ تاجر برادری کے مطابق گزشتہ روز پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں ایک ہوٹل مالک اور ایک مزدور شدید زخمی ہوئے تھے، جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس مزید بڑھ گیا۔
اس واقعے کے بعد بھی حالات معمول پر نہیں آ سکے اور تاجروں میں شدید بے چینی پائی جا رہی تھی مقامی ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح سویرے نامعلوم مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد وڈھ بازار میں داخل ہوئی اور مختلف مقامات پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
اچانک ہونے والی فائرنگ سے بازار میں بھگدڑ مچ گئی، شہری جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف دوڑ پڑے جبکہ دکانداروں نے فوری طور پر اپنی دکانیں بند کر دیں۔ عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے باعث پورا بازار خوف کی لپیٹ میں آ گیا اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج ہو گئیں۔
کئی گھنٹوں تک لوگ گھروں اور دکانوں سے باہر نکلنے سے گریز کرتے رہے، جبکہ علاقے میں شدید خوف کی فضا برقرار رہی۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ وہ کئی دنوں سے شدید ذہنی دبا اور خوف کے ماحول میں کاروبار کرنے پر مجبور تھے، لیکن حالیہ فائرنگ اور مسلسل دھمکیوں کے بعد مزید کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک جان و مال کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، بازار کھولنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ تاجروں نے وفاقی اور بلوچستان حکومت، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وڈھ میں امن و امان کی صورتحال کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے، مسلح عناصر کے خلاف مثر کارروائی کی جائے، تاجروں اور شہریوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی اور کاروباری سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو سکیں۔
دوسری جانب بازار کی بندش سے نہ صرف تاجروں کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے بلکہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، ٹرانسپورٹرز، چھوٹے دکاندار اور عام شہری بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صورتحال جلد معمول پر نہ آئی تو علاقے میں معاشی سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی اور شہریوں کو روزمرہ ضروریات کی فراہمی میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert