بلوچستان ‘ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت؛ نصیرآباد میں دو روز سے لاپتہ 7 سالہ معصوم بچی کی لاش برآمد

نصیرآباد(قدرت روزنامہ)ضلع نصیرآباد کے علاقے نوتال میں دو روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والی سات سالہ بچی کی لاش ایک زیرِ تعمیر عمارت کے احاطے سے برآمد ہونے کے بعد علاقے میں شدید غم و افسوس کی فضا چھا گئی ہے۔ افسوسناک واقعے نے اہلِ خانہ سمیت مقامی آبادی کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ شہریوں نے واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق سات سالہ بچی دو روز قبل اپنے گھر سے کسی ضروری چیز کے لیے باہر نکلی تھی، تاہم کافی دیر تک واپس نہ آنے پر اہلِ خانہ نے اس کی تلاش شروع کی۔ عزیز و اقارب اور اہلِ محلہ نے بھی مختلف علاقوں میں بچی کی تلاش کی، مگر اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے واقعے کی اطلاع پولیس کو دی، جس کے بعد پولیس نے بچی کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق دو روز بعد اطلاع موصول ہوئی کہ نوتال کے ایک زیرِ تعمیر مکان کے احاطے میں ایک بچی کی لاش پڑی ہوئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی، جہاں سے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ضابطے کی کارروائی کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جا رہا ہے اور فرانزک و طبی معائنے کی رپورٹس آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ بچی کی موت کن حالات میں واقع ہوئی، آیا یہ طبعی موت، حادثہ یا کسی مجرمانہ کارروائی کا نتیجہ ہے، حکام کے مطابق قبل از وقت کسی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔تفتیشی حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جبکہ قریبی علاقوں سے معلومات بھی حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ واقعے کی حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
اگر کسی قسم کے مجرمانہ شواہد سامنے آئے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔واقعے کے بعد اہلِ علاقہ میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم بچی کی موت کی وجوہات جلد از جلد سامنے لائی جائیں اور اگر اس واقعے میں کوئی فرد ملوث پایا جائے تو اسے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔
پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات کو میرٹ پر آگے بڑھایا جا رہا ہے اور پوسٹ مارٹم سمیت تمام ضروری رپورٹس موصول ہونے کے بعد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
