صوبائی بجٹ پشتون اضلاع کیساتھ ذیادتی کی انتہا ‘ 16 ارب کے ‘رائز’ پروجیکٹ میں ایک بھی پشتون ضلع شامل نہیں ‘ مکمل نظر انداز بدترین تعصب عیاں، پشتونخوا میپ کا شدید احتجاج اور عدالت جانے کا انتباہ


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں فارم47کی مسلط حکومت کی جانب سے صوبے کے صوبائی بجٹ میں پشتون اضلاع کا حصہ ایک چوتھائی سے کم رکھنے اور تمام پشتون بیلٹ کو مکمل نظر انداز کرنے پر اپنی سخت ترین تحفظات اور ترقیاتی منصوبوں سے محروم رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے تمام علاقوں کو ترقیاتی منصوبوں، وسائل اور مواقع میں مساوی حصہ ملنا چاہیے۔ کسی بھی خطے کو سیاسی یا انتظامی بنیادوں پر محروم رکھنا انصاف اور مساوی ترقی کے اصولوں کے خلاف ہے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اپنے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر بھرپور آواز اٹھائے گی۔ اگر حکومت نے ترقیاتی منصوبوں میں مناسب نمائندگی نہ دی تو پارٹی عوام کے تعاون سے ہر جمہوری، آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرے گی تاکہ پشتون اضلاع کے عوام کو ان کا جائز حق دلایا جا سکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنمنٹ آف بلوچستان کی حالیہ ایک اہم کمیونٹی ڈیولپمنٹ منصوبہ RISE (”Resilience Integration and Socio-Economic Empowerment”)بہ توسط(BRSP)آرگنائزیشن تکمیل کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ جس کی ٹوٹل لاگت سولہ ارب اناسی کروڑ روپے ہیں۔ اصل میں پروجیکٹ بلوچستان کے پسماندہ اور دورافتادہ اضلاع کے لیے ہیں، جس میں خاران، واشک، پنجگور، تربت، آواران اور گوادر کو شامل کئے گئے ہیں۔ اس پروگرام کے شعبے منصوبوں میں فنی پیشہ ورانہ تربیت، مالی و تکنیکی معاونت، اسپٹیلیٹی اور تجارتی شعبہ، پائیدار روزگار اور معاشی استحکام جیسے اہم اجزاء شامل ہیں۔ اس پروجیکٹ میں تقریباً تین لاکھ اناسی ہزار تین سو چتتیس گھرانے شامل کیے گئے ہیں۔ جسے تیس لاکھ لوگ مستفید ہوں گے۔ اس میں صرف چار ہزار تین سو بیس لوگوں کو مختلف قسم کے روزگار ملیں گے۔ 180 لوکل اداروں کو کمیونٹی؛ ڈیولپمنٹ کیلئے فنڈنگ ہو گئی۔ 16000 لوگوں کو کلائمیٹ ریزیلینٹ انفراسٹرکچر اسکیم ملیں گے۔یوتھ امپاورمنٹ/روزگار سے 900 نوجوان مستفید ہونگے۔ لیکن بدقسمتی اور تعصب وتنگ نظری کی بنیاد پر اس میں پورے صوبے سے کسی بھی پشتون ضلع کوشامل نہیں کیا گیا ہے۔ پشتون بیلٹ سے فارم 47 کے جعلی نمائندے اس پر مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ایسے غیر منصفانہ اور تعصب پر مبنی اقدامات کی بھرپور مخالفت اور مذمت کرتی ہے۔ اگر اس پروگرام میں پشتون اضلاع شامل نہیں کیئے گئے تو پارٹی ہر راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگی جسکی ذمہ تر داری حکومت وقت پر عائد ہوگی۔حکومتی ذمہ داروں کی ایکشن نہ لینے کی صورت میں پارٹی اپنے عوام کی تعاون احتجاج کے علاوہ عدالت جانے سے بھی گریز نہیں کریگی۔

WhatsApp
Get Alert