آپ کے جسم میں پانی کی کتنی کمی ہے؟ آسان ٹیسٹ سے جانیے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پانی ہماری صحت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے اور خاص طور پر گرم موسم میں جسم میں اس سیال کی کمی بہت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
پیاس کا احساس ہمارے جسم کا ایسا ذریعہ ہے جو بتاتا ہے کہ اسے پانی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنا کام درست طریقے سے کرسکے۔
ڈی ہائیڈریشن کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے جسم کو پانی کی کمی کا سامنا ہو رہا ہے اور اسے اپنے معمول کے افعال کے لیے مناسب مقدار میں پانی دستیاب نہیں۔
پیاس کے علاوہ ڈی ہائیڈریشن کی دیگر علامات میں پیشاب کی گہری رنگت، معمول سے کم پیشاب آنا، منہ خشک ہونا، جِلد خشک ہونا، تھکاوٹ یا سر چکرانے کا احساس اور سر درد شامل ہیں۔
مگر جب جسم میں پانی کی کمی ہو اور پیاس محسوس نہ ہو رہی ہو تو آپ اس کے بارے میں کیسے جان سکتے ہیں؟
درحقیقت یہ زیادہ مشکل نہیں آپ کی جِلد اس بارے میں بتا سکتی ہے۔
جی ہاں ایک بہت آسان ٹیسٹ سے آپ چند سیکنڈ میں جان سکتے ہیں کہ جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار تو نہیں ہو رہا۔
ہماری جِلد لچکدار ہوتی ہے اور جسم میں پانی کی کمی سے جِلد کی لچک متاثر ہوتی ہے تو آپ آسانی سے اس بارے میں معلوم کرسکتے ہیں۔
2007 میں ایمرجنسی میڈیکل جرنل میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا۔
اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جِلد کی ساخت اور لچک پر پانی کی کمی سے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ آسان ٹیسٹ ڈی ہائیڈریشن کے بارے میں بتانے میں کسی حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
اس ٹیسٹ کے لیے اپنے ہاتھ کی پشت کی جِلد کو چٹکی میں چند سیکنڈ تک دبا کر رکھیں اور پھر چھوڑ دیں، اگر وہ فوری طور پر اصل شکل میں واپس چلی جائے تو آپ کے جسم میں مناسب مقدار میں پانی موجود ہے، اگر جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو تو جلد کو معمول کی ساخت میں واپس جانے کے لیے کچھ زیادہ وقت لگتا ہے۔
البتہ یہ خیال رہے کہ بڑھاپے میں جِلد کی لچک قدرتی طور پر گھٹ جاتی ہے تو ان میں جِلد کو معمول کی شکل میں واپس آنے میں 20 سیکنڈ بھی لگ سکتے ہیں البتہ زیادہ وقت لگے تو پھر انہیں پانی پی لینا چاہیے۔
