بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے ای پروٹیکٹر سسٹم کا آغاز

گھر بیٹھے موبائل فون، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر سے چند منٹوں میں رجسٹریشن ممکن، دفاتر کے چکروں، طویل انتظار اور ایجنٹوں کے ہاتھوں لُٹنے سے نجات مل گئی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)حکومتِ پاکستان نے بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے لاکھوں شہریوں کے لیے جدید ترین سہولت متعارف کروا دی، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے امیگریشن کے روایتی نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرتے ہوئے آن لائن پروٹیکٹر سسٹم کا آغاز کردیا، جس کے بعد اب شہریوں کو دفاتر کے چکر کاٹنے اور ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹنے سے نجات مل جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق نئے متعارف کردہ ‘ای پروٹیکٹر’ سسٹم کے تحت اب بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے افراد اپنی رجسٹریشن گھر بیٹھے اپنے موبائل فون، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کے ذریعے چند منٹوں میں مکمل کرسکیں گے، اب کسی بھی درخواست گزار کو پروٹیکٹر افس جا کر گھنٹوں طویل لائنوں میں لگنے کی بالکل ضرورت نہیں ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام کا بنیادی مقصد امیگریشن کے پرانے اور وقت طلب طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، ماضی میں دور دراز علاقوں اور دیہات کے رہائشیوں کو پروٹیکٹر رجسٹریشن کے لیے بڑے شہروں میں قائم متعلقہ دفاتر کا مہنگا سفر کرنا پڑتا تھا، جہاں مختلف مراحل سے گزرنے کے علاوہ ان کا وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہوتے تھے، اب یہ تمام مراحل ایک کلک پر آن لائن دستیاب ہوں گے۔
بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار اب بیورو آف امیگریشن کی ویب سائٹ یا پورٹل پر جا کر درج آسان اقدامات کے ذریعے اپنا پروٹیکٹر حاصل کر سکیں گے، جس کیلئے شہری موبائل یا کمپیوٹر کے ذریعے پورٹل پر اپنی مطلوبہ معلومات درج کریں گے، نوکری کے معاہدے اور دیگر ضروری دستاویزات اپ لوڈ کرنا ہوں گی، آن لائن طریقے سے مقررہ سرکاری فیس ادا کریں گے، فیس کی ادائیگی اور تصدیق کے بعد پروٹیکٹر رجسٹریشن کا عمل خودکار طریقے سے مکمل ہو جائے گا۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے کہا ہے کہ یہ جدید نظام امیگریشن آرڈیننس 1979ء اور تمام متعلقہ ملکی قوانین کے عین مطابق تیار کیا گیا ہے، اس نظام سے جہاں شہریوں کا وقت بچے گا، وہاں پورے عمل میں شفافیت آئے گی اور رشوت ستانی کا خاتمہ ہوگا، تمام ریکارڈ ڈیجیٹل فارمیٹ میں محفوظ ہونے سے حکومت کے پاس بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کا 100 فیصد مستند ڈیٹا موجود رہے گا، جس سے اوورسیز پاکستانیوں کو کسی بھی مشکل گھڑی میں قانونی تحفظ فراہم کرنے اور ان کے لیے بہتر پالیسیاں بنانے میں مدد ملے گی۔

WhatsApp
Get Alert