چیف جسٹس بن کر قاضی فائزعیسیٰ نے جو کیا اس پر تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی، حامد میر
قاضی فائز عیسیٰ پر ریفرنس بنا تو موصوف کی خاطر ہم عمران خان کی حکومت سے لڑتے رہے، جنرل باجوہ سے لڑتے رہے، سینئر صحافی و اینکر پرسن کا ٹویٹ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے دور اور ان کے فیصلوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں حامد میر کا کہنا ہے کہ جب ماضی میں قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تھا، تو صحافتی برادری اور انہوں نے خود قاضی فائز عیسیٰ کے دفاع میں اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت اور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے دشمنی مول لی تھی، لیکن چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے کے بعد قاضی فائز عیسیٰ کا طرزِ عمل انتہائی افسوس ناک رہا۔
سینئر صحافی حامد میر نے ماضی کی سیاسی و عدالتی جنگ کا احوال بیان کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ پر ریفرنس بنا تو موصوف کی خاطر ہم عمران خان کی حکومت سے لڑتے رہے، جنرل باجوہ سے لڑتے رہے، افسوس کہ اس شخص نے چیف جسٹس بننے کے بعد وہ کچھ کیا جس پر اسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔
قاضی فائز عیسیٰ پر ریفرنس بنا تو موصوف کی خاطر ہم عمران خان کی حکومت سے لڑتے رہے جنرل باجوہ سے لڑتے رہے افسوس کہ اس شخص نے چیف جسٹس بننے کے بعد وہ کچھ کیا جس پر اسے تاریخ کبھی معاف نہیں کریگی https://t.co/NGSx0RQSK6
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) July 13, 2026
خیال رہے کہ سال 2019ء میں پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی اس وقت کی حکومت نے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ذریعے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ان کی اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود مبینہ جائیدادوں کو بنیاد بنا کر سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا، اس ریفرنس کے خلاف وکلاء برادری اور ملک کے کئی صحافیوں نے اسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیا تھا۔
حامد میر سمیت کئی سینیئر تجزیہ کاروں کا مؤقف تھا کہ یہ ریفرنس دراصل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے ‘فیض آباد دھرنا کیس’ میں دیے گئے ایک جرات مندانہ فیصلے کا ردِعمل تھا، جس کی وجہ سے اس وقت کی حکومت اور جنرل باجوہ کی قیادت میں مقتدرہ ان کے خلاف ہو گئی تھی۔ بتاتے چلیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور طویل سماعتوں کے بعد سپریم کورٹ کے فل بینچ نے ان کے خلاف دائر اس صدارتی ریفرنس کو یکسر کالعدم قرار دے کر خارج کر دیا، جسے اس وقت کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی بڑی قانونی شکست سمجھا گیا تھا، اس کے بعد ستمبر 2023ء میں جب قاضی فائز عیسیٰ نے پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھایا تو ان سے عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی کے لیے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔
تاہم ان کے 13 ماہ کے دور میں کئی ایسے فیصلے سامنے آئے خصوصاً پی ٹی آئی سے انتخابی نشان ‘بلا’ چھیننے کا فیصلہ اور مخصوص نشستوں کا کیس جس نے صدارتی ریفرنس کے وقت ان کا ساتھ دینے والے حامد میر جیسے سینیئر صحافیوں اور وکلاء کو شدید مایوس کیا، ناقدین کا کہنا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس بن کر مبینہ طور پر اسی مقتدرہ اور اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا جن کے خلاف کبھی صحافی ان کے لیے لڑ رہے تھے۔
