امریکا کے لیے مفت ایئربیس اور آدھے لندن کی ملکیت، قطر کو دنیا کا امیر ترین ملک بنانے والے شیخ حمد کی کہانی

قطر )(قدرت روزنامہ)قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی چوہتر برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے صرف اٹھارہ سال کے عرصے میں ایک چھوٹے سے صحرائی ملک کو دنیا کا امیر ترین اور بااثر ترین ملک بنا دیا۔
شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کی زندگی کی کہانی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے سنہ 1995 میں ایک ایسے وقت میں اقتدار سنبھالا جب ان کے والد ملک سے باہر گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے بغیر کسی خون خرابے کے اپنے والد کو حکومت سے ہٹایا، جو تقریباً دس سال تک اپنے ملک سے باہر زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔
قطر رقبے کے لحاظ سے بیلجیم سے بھی چھوٹا ملک ہے اور اس کی آبادی بیس لاکھ کے قریب تھی جس میں زیادہ تر باہر سے آئے ہوئے مزدور تھے۔ لیکن اس چھوٹے سے ملک کے نیچے دنیا کے گیس کے سب سے بڑے ذخائر موجود تھے۔
شیخ حمد نے اپنی ساری دولت اور دھیان اسی مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی پر لگا دیا۔
ان کی اس سوچ نے کام دکھایا اور قطر دنیا میں گیس برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا اور یہاں کا ہر شہری دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہو گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان کے دور میں ملک کی دولت 24 گنا بڑھی اور گیس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 77 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔
لیکن گیس کی دولت کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ قطر کے پاس کوئی بڑی فوج نہیں تھی اور اتنی زیادہ دولت رکھنے والے چھوٹے ملک پر کوئی بھی پڑوسی قبضہ کر سکتا تھا۔
اس خطرے سے بچنے کے لیے شیخ حمد نے دو ایسی چیزیں خریدیں جو پورے عرب میں کسی نے نہیں سوچی تھیں۔
پہلی چیز دنیا کی توجہ تھی۔ انہوں نے سنہ 1996 میں ایک شاہی حکم جاری کیا اور الجزیرہ نیوز چینل کی بنیاد رکھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے یہ عرب دنیا کا سب سے بڑا اور اثر و رسوخ والا میڈیا بن گیا جس پر اسامہ بن لادن کی ویڈیو ٹیپس بھی چلائی گئیں۔ ان کے پاس خطے کا سب سے بڑا مائیکروفون تھا لیکن انہیں خود کبھی اس میں بولنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
دوسری چیز جو انہوں نے خریدی وہ امریکی فوج تھی۔
سنہ 1996 میں قطر نے دوحہ کے باہر العدید کے مقام پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر کے ایک بہت بڑا ہوائی اڈہ بنایا جس کا رن وے خلیج میں سب سے لمبا تھا۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ قطر کی اپنی فضائیہ کے پاس صرف بارہ جنگی جہاز تھے لیکن انہوں نے یہ ایئر بیس 100 جہازوں کے لیے بنایا تھا۔
سنہ 1999 میں انہوں نے امریکی حکام سے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دس ہزار امریکی فوجی یہاں تعینات کیے جائیں۔ جب امریکا میں نائن الیون کا واقعہ ہوا تو امریکی فوج یہاں آ گئی۔
آج یہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے اور قطر اس کا کوئی کرایہ بھی نہیں لیتا۔ شیخ حمد نے اپنے ملک کی گیس پر کسی دوسرے ملک کا قبضہ ہونے سے بچانے کے لیے امریکی فوج کو لا کر اپنے ملک میں بالکل مفت بٹھا دیا۔
اس کے بعد انہوں نے گیس سے آنے والے پیسوں سے دنیا کی مہنگی ترین چیزیں خریدنا شروع کر دیں۔
سنہ 2005 میں انہوں نے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی بنائی جس کے ذریعے لندن کا مشہور اسٹور ’ہیروڈز‘، یورپ کی سب سے اونچی عمارت ’دی شارڈ‘، ’کینری وارف‘، مشہور کار کمپنی ’ووکس ویگن‘ کے 17 فیصد شیئرز اور فرانس کا مشہور فٹبال کلب ’پیرس سینٹ جرمین‘ خرید لیا۔
اس کے بعد حالات یہ ہو گئے کہ ایک برطانوی اخبار نے سرخی لگائی کہ لندن کی جتنی زمین کی مالک برطانیہ کی ملکہ نہیں ہے، اس سے زیادہ زمین قطریوں کی ہے۔
جب سنہ 2008 میں دنیا پر معاشی بحران آیا تو انہوں نے برطانیہ کے بڑے بینک ’بارکلیز‘ کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے اربوں روپے کا چیک لکھ دیا جس کے بعد اس بینک میں ان کا حصہ 12 فیصد سے زیادہ ہو گیا۔
فٹبال کی دنیا میں قطر کا کوئی نام و نشان نہیں تھا لیکن انہوں نے سنہ 2010 میں اپنی دولت اور اثر و رسوخ کے زور پر سنہ 2022 کے ورلڈ کپ کی میزبان حاصل کر لی۔ اگرچہ اس پر بہت سے الزامات بھی لگے اور مزدوروں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تنقید بھی ہوئی، لیکن جب سنہ 2022 میں ورلڈ کپ کا پہلا میچ ہوا تو پورے اسٹیڈیم نے کھڑے ہو کر شیخ حمد کو سلامی دی۔
