شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کر رہے ہو، مولانا فضل الرحمان


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اپنے جرائم کو چھپانے کیلئے خون کو استعمال کررہے ہو، ہم تو عافیت مانگتے ہیں دشمن کا سامنا کرنے کی خواہش نہیں کرتے لیکن جب حالات آجائیں تو پھر ڈٹ جاؤ یہی اصول ہے۔ تفصیلات کے مطابق جمیعت لائر فورم کے زیرِ اہتمام وکلاء کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس سے جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خصوصی خطاب کیا، اپنے خطاب میں انہوں نے ملکی سلامتی، فوج اور پولیس کے تعلقات، انتخابی دھاندلی اور ریاستی پالیسیوں پر کھل کر بات کی اور مقتدر حلقوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ملکی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پورا ملک محصور ہو کر رہ گیا ہے اور ملک کے اندر اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے، مقتدر حلقوں کی ناراضگی اس بات پر ہے کہ ہم نے یہ سوال اٹھایا کہ ہم لشکر کیوں بنائیں؟ مشرقی پاکستان میں عوام سے کہا گیا کہ لشکر بناؤ، جس کے نتیجے میں البدر اور الشمس بنے، جنہوں نے فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی، لیکن وہ دشمنی آج بھی موجود ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب تم ہمارے لیے نئے دشمن بنا رہے ہو؟ یہ صوبائی حکومت کی پولیس کو تو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن عوام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں، بنوں میں کتنی بار چھاؤنیوں پر حملے ہوئے، وہاں پولیس نے اعلان کیا کہ اب ہم خود لڑیں گے لیکن فوج کے ساتھ مل کر نہیں لڑیں گے، بنوں کی پولیس اب اپنے افسر کی بات بھی نہیں مان رہی، یہی کچھ اور یہی حال لکی مروت میں بھی ہوا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ٹانک کی ایک مسجد میں پولیس اہلکاروں نے باقاعدہ قرآن پاک پر حلف اٹھایا کہ ہمارے جنازے میں فوج شریک نہیں ہوگی، کیا یہ حالات میں نے بنائے ہیں؟ عوام اور حکمران میرے مضمون کو سمجھیں، میں نے صرف دائرہ اختیار کا احساس دلایا ہے، اس وقت ریاست کی ساری توانائیاں صرف اور صرف اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
انہوں نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کیا جا رہا ہے اور مقتدر طبقہ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے اس پاک خون کو استعمال کر رہا ہے، ہم تو ہمیشہ عافیت مانگتے ہیں اور دشمن کا سامنا کرنے کی خواہش نہیں کرتے، لیکن اصول یہی ہے کہ جب حالات سامنے آ جائیں تو پھر پیچھے ہٹنے کے بجائے ڈٹ جاؤ، گلگت میں میرے حلقے کے بیلٹ بکس دریا سے ملے، اب ان کو کون گنے گا؟۔
سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ ایک مولوی صاحب رات کو میرے ساتھ کھانے پر بیٹھ کر مجھے میرے جلسے کی کامیابی کی مبارکباد دے رہے تھے اور اگلے ہی دن وہ بیچارے رو رہے تھے، میرا یہ کھلا دعویٰ ہے کہ تم نے انتخابات میں بدترین دھاندلی کی، کیا اس ملک میں ہمیشہ دھاندلی کے ذریعے ہی حکومت بنے گی؟ یہ لوگ میرے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور مجھے بلوچستان میں حکومت کے اندر شمولیت کی دعوت دی گئی جسے ہم نے صاف مسترد کردیا، اسی طرح خیبر پختونخواہ کے بارے میں نے ان سے کہا کیا تم لوٹوں کے ذریعے میری حکومت بنانا چاہتے ہو؟ ہم ایسی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔

WhatsApp
Get Alert