بلوچستان میں فورسز سیکیورٹی کے علاوہ سب کچھ کر رہی ہیں؛ پانی سر سے گزرنے سے پہلے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں: مولانا ہدایت الرحمن


کوئٹہ(ڈیلی قدرت) امیر جماعت اسلامی بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ قومی پارٹیوں کو سیاسی مفادات سے ہٹ کر بلوچستان کے لیے سوچنا ہوگا۔ پارلیمانی و دیگر سیاسی اور قومی جماعتوں کو مل کر پانی سر سے گزرنے سے پہلے اہل بلوچستان کی جان و مال کی حفاظت، امن اور ترقی کے لیے سنجیدہ اور عملی کام کرنے ہوں گے۔ پہاڑوں، شہروں اور شاہراہوں کو کلیئر کرنا ان فورسز کی ذمہ داری ہے جن پر بجٹ کا سب سے زیادہ حصہ خرچ ہوتا ہے، لیکن سیکیورٹی فورسز سیکیورٹی کے علاوہ سب کچھ کر رہی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں امرائے اضلاع اور صوبائی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال، بدامنی، زیارت و ہنہ اوڑک دھرنا، بارڈرز و تجارت کی بندش، شاہراہوں پر ٹرکوں کو جلانے، لاشوں کی برآمدگی، ٹارگٹ کلنگ، طاقت کے استعمال، سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، عدالتی انصاف سے محرومی اور لاپتہ افراد کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امرائے اضلاع اور صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ نے تنظیمی رپورٹس پیش کیں۔ اجلاس میں جماعت اسلامی کے ششماہی منصوبہ عمل، الخدمت بنو قابل، ممبر سازی مہم اور تنظیمی بجٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مولانا ہدایت الرحمن نے مزید کہا کہ انصاف فراہم کرنے اور عوام کو حقیقت سے باخبر رکھنے والوں کو ریموٹ سے کنٹرول کرنے کے مزید نقصانات ہوں گے۔ قومی کانفرنس کا انعقاد اور اس میں قومی قیادت کی شرکت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امرائے اضلاع نے کہا کہ بلوچستان سنگین حالات سے دوچار ہے، بدامنی عروج پر ہے اور عوام بدحال ہیں، جبکہ انصاف و تحفظ فراہم کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ زمینوں پر قبضے، معدنیات و شاہراہوں پر لوٹ مار اور ٹرکوں کو جلانا معمول بن گیا ہے۔ لاقانونیت کے ان حالات میں دیگر قومی پارٹیوں اور میڈیا کی خاموشی افسوسناک ہے، تاہم جماعت اسلامی عوام کو تحفظ دینے اور بلوچستان میں قیام امن کے لیے قومی سطح پر اپنی بھرپور آواز بلند کرتی رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert