بلوچستان مختلف علاقوں میں آپریشن حادثات اور جرائم؛ 10 دہشتگرد ہلاک، 6 افراد جاں بحق، 13 زخمی، ایک لاش برآمد، خاتون کی خودکشی کی کوشش، 10 ملزمان گرفتار

کوئٹہ/اندرون بلوچستان ( ڈیلی قدرت کوئٹہ / مانٹیرنگ ڈیسک) بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں بدھ کے روز فائرنگ، دھماکوں، ڈکیتی، چوری، منشیات اسمگلنگ اور حادثات کے متعدد واقعات پیش آئے، جن میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، جبکہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں کے دوران متعدد ملزمان کو گرفتار کرکے اسلحہ، منشیات اور مسروقہ موٹرسائیکلیں برآمد کرلیں۔
سیکیورٹی فورسز حکام کے مطابق ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں گورو کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں انعام الحق سکنہ قلعہ عبداللہ، سید طارق نیاز سکنہ کراچی اور لیاقت خان سکنہ گلستان جاں بحق جبکہ نجم، عبدالحنان سکنہ کوئٹہ اور عبدالولی سکنہ پشین زخمی ہوگئے۔ لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسی واقعے سے متعلق ایک دوسری ابتدائی رپورٹ میں چار مسافروں کے جاں بحق اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی، تاہم اس رپورٹ میں ہلاکتوں کی حتمی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
کھڈکوچہ اور منگچر کے اطراف سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کے باعث کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کئی مقامات پر بند رہی۔ کھڈکوچہ کے انجیری کراس کے قریب نامعلوم افراد نے دھماکا خیز مواد سے قومی شاہراہ کا پل بھی تباہ کردیا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کھڈکوچہ میں رات 9 بجے سے تاحکم ثانی کرفیو نافذ کردیا۔
قلات میں گڈان ہوٹل کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے تربت جانے والی المنیر کوچ پر فائرنگ کردی، جس سے آواران کی رہائشی 25 سالہ شاندار گل زخمی ہوگئیں۔ وڈھ بازار میں محمد رفیق براہمزئی کی دکان پر دھماکے سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم دکان کا مالک محفوظ رہا۔
نوشکی کے عین الدین روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے شیخ زاہد جاں بحق ہوگئے۔ ژوب کے علاقے کلی سڑئی حنفے زئی میں بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شمس الحق کو قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔ پولیس نے دونوں واقعات کے مقدمات درج کرکے تحقیقات شروع کردیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سوراب اور مستونگ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 10 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جن میں سات سوراب اور تین مستونگ میں مارے گئے۔ مستونگ سے دو مبینہ خواتین خودکش حملہ آوروں اور ایک سہولت کار کو گرفتار کرکے اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔
نصیرآباد میں گوٹھ پندرانی کے مقام پر پندرانی اور مینگل قبائل کے مسلح تصادم میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔ اوچ پاور پلانٹ کے قریب ٹریفک حادثے میں عظیم خان اور نظام الدین زخمی ہوگئے، جبکہ میر حسن پولیس تھانے کی حدود میں پستول صاف کرتے ہوئے گولی چلنے سے لال میر زخمی ہوا۔ گوٹھ مانجھوٹی میں گلزادی نامی خاتون نے مبینہ طور پر زہریلی دوا کھا کر خودکشی کی کوشش کی، جسے بے ہوشی کی حالت میں ٹیچنگ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
ژوب کے علاقے تورہ خولہ میں بارش اور برساتی پانی سے رابطہ سڑکوں اور املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ بارش کے دوران پیش آنے والے حادثے میں دو سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔
دالبندین میں آر سی ڈی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے اشیائے خورونوش سے بھری مزدہ گاڑی اور لاکھوں روپے کا سامان چھین لیا۔ منجھو شوریٰ میں مسلح افراد محمد علی کٹوہر سے موٹرسائیکل، نقدی اور موبائل فون جبکہ صحبت پور کے کنڈرانی محلہ میں نامعلوم چور جان محمد منگریو کے گھر سے چھ بکریاں اور گھریلو سامان لے گئے۔
بھاگ کے علاقے لمجی کے قریب ڈاکوؤں نے محمد مراد کلواڑ سے ڈکیتی کے بعد فائرنگ کرکے اسے زخمی کردیا۔ بیلہ کے محلہ میتگ میں شہریوں کے مطابق بھیک مانگنے والی بعض خواتین گھر سے نقدی اور سونا لے گئیں۔ شہریوں نے پیشہ ور بھکاری گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
کوئٹہ ریلویز پولیس نے دو کارروائیوں میں مجموعی طور پر 11 کلو آئس اور چھ کلو چرس برآمد کرکے پتوکی کے رہائشی ماجد اور بہاولپور کے رہائشی کامران کو گرفتار کرلیا۔ حکام کے مطابق برآمد ہونے والی منشیات کی مالیت تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے ہے۔
گوادر سٹی پولیس نے موٹرسائیکل چور گروہ کے تین مبینہ ملزمان کو گرفتار کرکے پانچ مسروقہ موٹرسائیکلیں برآمد کرلیں۔ جیکب آباد پولیس نے پولیس مقابلوں کے مقدمات میں مطلوب مجیب گلوانی جکھرانی کو بغیر لائسنس پستول سمیت جبکہ نوید قمبرانی کو تین کلو چرس سمیت گرفتار کرلیا۔
دریں اثنا جیکب آباد کے مولاداد پھاٹک کے قریب ایک نامعلوم خواجہ سرا کی لاش ملی۔ ابتدائی طبی معائنے میں جسم پر تشدد کے نشانات نہیں ملے، تاہم موت کی حتمی وجہ ضروری کارروائی کے بعد سامنے آئے گی۔ کوہلو میں محمد اکبر پیردادانی کے اہل خانہ نے ان کی موت کو مبینہ قتل قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
