پاکستان میں کاروباری اعتماد بہتر، بجٹ پر تحفظات اور مہنگائی بدستور سب سے بڑا مسئلہ قرار

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) پاکستان میں کاروباری اعتماد بہتر ہوا ہے، تاہم کاروباری طبقے کے بجٹ پر تحفظات اور مہنگائی کو بدستور سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
گیلپ پاکستان کے بزنس کانفیڈنس سروے کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم وفاقی بجٹ 2026-27 کے حوالے سے کاروباری اداروں کے تحفظات برقرار ہیں۔

سروے کے مطابق بزنس کانفیڈنس انڈیکس کے تینوں اہم اشاریوں میں بہتری آئی ہے۔موجودہ کاروباری صورتحال کا اعتماد 9فیصد بہتر ہوکر منفی 19فیصد سے منفی 10 فیصد پر آ گیا جبکہ 45 فیصد کاروباری اداروں نے موجودہ کاروباری حالات کو بہتر قرار دیا، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 4فیصد زیادہ ہے۔

مستقبل کی کاروباری صورتحال کے اعتمادمیں سب سے نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی جو 25 فیصد اضافے کے بعد 12 فیصد مثبت تک ہوگیا۔ گزشتہ 3 سہ ماہیوں میں پہلی مرتبہ یہ اعتماد مثبت سطح پر آیا ہے۔

سروے میں شامل 56فیصد کاروباری اداروں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ 12 ماہ کے دوران کاروباری حالات مزید بہتر ہوں گے۔ ملک کی مجموعی سمت سے متعلق کاروباری اداروں کا اعتماد اگرچہ اب بھی منفی ہےتاہم 12 فیصد بہتر ہو کر منفی 20 فیصد ہوگیا ہے۔

گیلپ پاکستان کے مطابق کاروباری اعتماد میں اس بہتری کی ایک اہم وجہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے بعد بیرونی غیر یقینی صورتحال میں کمی اور سروے سے قبل ایندھن کی قیمتوں میں آنے والی کمی ہے۔

گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال آئی گیلانی نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں کاروباری اعتماد میں بحالی آئی ہے، تاہم اس بہتری کے باوجود بیشتر اشاریے اب بھی منفی سطح پر موجود ہیں۔ اگرچہ کاروباری اعتماد میں بہتری دیکھی گئی، تاہم کاروباری اداروں کو اب بھی نمایاں آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے۔

سروے میں 34 فیصد جواب دہندگان نے مہنگائی کو سب سے اہم مسئلہ قرار دیا اور اس پر حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

اسی طرح بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی مزید سنگین مسئلہ بن کر سامنے آئی۔ سروے کے دن 72فیصدکاروباری اداروں نے لوڈشیڈنگ کی شکایت کی ہے جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے اور 2023 اور 2024 کے لیول سے بھی بلند ہے۔

وفاقی بجٹ 2026-27 کے حوالے سے کاروباری برادری کی رائے مجموعی طور پر منفی ہے۔ 39 فیصد کاروباری اداروں نے بجٹ کو منفی قرار دیا ہے جبکہ صرف 18فیصد نے مثبت قرار دیا۔

سروے میں شامل 49فیصد کاروباری اداروں نے کہا کہ بجٹ کے بعد آئندہ 12 ماہ کے دوران انہیں اپنے کاروباری امکانات پر کم اعتماد ہے، جبکہ 36 فیصد نے اعتماد کا اظہار کیا۔ اسی طرح 49فیصد کاروباری اداروں کا خیال ہے کہ بجٹ کے باعث کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ ہوگا، جبکہ صرف 22 فیصد نے لاگت میں کمی کی توقع ظاہر کی۔

سرمایہ کاری کے حوالے سے 34فیصد کاروباری اداروں نے کہا ہے کہ بجٹ کے بعد سرمایہ کاری یا کاروبار میں توسیع کے امکانات کم ہوئے ہیں، جبکہ صرف 22فیصد نے سرمایہ کاری میں توسیع کا ارادہ ظاہر کیا۔

گیلپ پاکستان کے مطابق اگرچہ مجموعی کاروباری اعتماد میں بہتری آئی ہے، تاہم بجٹ سے متعلق تمام اہم اشاریے بدستور منفی ہیں، جو کاروباری برادری کے مالیاتی پالیسی پر محدود اعتماد کی عکاسی ہیں۔

بلال آئی گیلانی نے کہا کہ کاروباری اعتماد میں بہتری کے آثار ضرور نمایاں ہوئے ہیں، تاہم یہ مثبت رجحان ابھی وفاقی بجٹ پر کاروباری برادری کے اعتماد میں تبدیل نہیں ہو سکا۔

اگرچہ کاروباری ادارے موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کے حوالے سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ پُرامید ہیں، لیکن انہیں اب بھی اس بات پر مکمل اعتماد نہیں کہ حکومتی مالیاتی پالیسیاں ان کے کاروبار کے لیے سازگار ثابت ہوں گی۔

گیلپ پاکستان کے مطابق حالیہ بحالی کو پائیدار قرار دینے کے لیے مہنگائی، توانائی کی فراہمی اور کاروباری لاگت میں مسلسل بہتری ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ گیلپ پاکستان 2020 کی دوسری سہ ماہی سے بزنس کانفیڈنس انڈیکس کے ذریعے ملک میں کاروباری رحجانات کا جائزہ لے رہا ہے۔

حالیہ سروے 2 سے 7 جولائی 2026 کے دوران چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور مالاکنڈ کے 40 اضلاع اور شہروں میں کیا گیا، جس میں مینوفیکچرنگ، خدمات، تعمیرات، مالیاتی خدمات، ہول سیل اور ریٹیل سمیت مختلف شعبوں کے 527 کاروباری اداروں نے حصہ لیا۔

WhatsApp
Get Alert